مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے دھڑے کے رکن حسن فضل اللہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لبنان سے انخلا کے بعد حزب اللہ قومی سلامتی کی حکمت عملی کے بارے میں بات چیت کے لیے تیار ہے۔
حسن فضل اللہ نے المیادین کو انٹرویو دیتے ہوئے غزہ کی حمایت کے حوالے سے سید حسن نصر اللہ کے موقف کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کا اس معاملے پر واضح موقف تھا۔ ان کے مطابق سید حسن نصر اللہ کا خیال تھا کہ لبنانی مزاحمت غزہ کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے اور اسے اس حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ حزب اللہ غزہ میں بڑے پیمانے پر ہونے والے قتل عام کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتی تھی اور یہ مزاحمت کے دونوں شہید رہنماؤں کی روش بھی رہی ہے۔
حسن فضل اللہ نے لبنان کے عوام کے لیے حزب اللہ کی امداد کے بارے میں کہا کہ جنگ سے متاثرہ افراد کی رہائش سے متعلق فراہم کی جانے والی امداد کی حتمی رقم ظاہر نہیں کی جائے گی، کیونکہ ان کے بقول یہ رقم امریکیوں کے لیے حیران کن ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کے پاس ایک جامع منصوبہ موجود ہے جو عوام پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے گا اور یہ منصوبہ جلد پیش کیا جائے گا۔
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ نے جنگ سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے میں لبنانی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت حکومت سے عملی اقدامات کی توقع رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے جنگ کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے دیا جانے والا قرض ابھی تک ادا نہیں کیا گیا اور ان کے بقول اس تاخیر کا ایک حصہ دانستہ ہے۔
فضل اللہ نے بتایا کہ حزب اللہ نے لبنانی وزیراعظم نواف سلام کو تجویز دی ہے کہ تعمیر نو کے معاملے کو مختلف شعبوں میں تقسیم کیا جائے، تاہم نقصانات کے ازالے کے عمل میں سست روی اور تاخیر موجود ہے جس کی ان کے بقول وجوہات بھی موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس مالی وسائل موجود ہیں، لیکن جان بوجھ کر کوتاہیاں کی جا رہی ہیں۔
فضل اللہ نے کہا کہ حزب اللہ نے لبنانی صدر کے مشیر سے بھی اس بات پر گفتگو کی ہے کہ مزاحمت کو غیر قانونی قرار دینے والے مؤقف سے واپسی کے لیے کوئی راستہ تلاش کیا جائے۔
لبنان کی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حزب اللہ داخلی حل تک پہنچنے کے قریب تھی، لیکن اچانک معاملات فریم ورک معاہدے کی جانب چلے گئے۔ لبنانی حکام نے تمام معاملات اسرائیلی حکومت کے حوالے کر دیے ہیں۔
فضل اللہ نے کہا کہ لبنان کو ملک کی نصف آبادی سے دشمنی کی بنیاد پر نہیں چلایا جا سکتا اور سوال اٹھایا کہ موجودہ تعطل کی صورتحال میں صدر اپنی مدت صدارت کیسے جاری رکھ سکتے ہیں۔
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ نے فریم ورک معاہدے کے بارے میں کہا کہ اسے اس انداز میں آگے بڑھایا گیا کہ تمام توجہ صرف دستخط کرنے پر مرکوز رہی، جبکہ اس معاملے پر سنجیدہ اور ماہرین پر مبنی بحث یا ماہرین سے مشاورت نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے ایسی شرائط ضروری ہیں جن کے باعث بات چیت کے نتائج الٹا اثر نہ ڈالیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تمام نقصانات کے باوجود حزب اللہ اب بھی مفاہمت کی حامی ہے۔
حسن فضل اللہ نے واضح طور پر کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے لبنان سے انخلا کے بعد قومی سلامتی کی حکمت عملی پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے لبنانی حکام سے کہا کہ ہتھیاروں کی اجارہ داری، جنگ و امن کے فیصلے اور حکومت کے اختیارات پر بات کرنے سے پہلے جنوبی لبنان میں ایسی حکومت قائم کی جائے جو عوام کا تحفظ کر سکے۔
لبنانی پارلیمنٹ کے اس رکن نے مزید کہا کہ اگر حکومت عوام کے تحفظ کی صلاحیت نہیں رکھتی تو اسے عوام کو اپنے دفاع سے روکنے کا حق بھی نہیں ہے۔
فضل اللہ نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ حزب اللہ فری لبنانی نیشنل موومنٹ کے ساتھ معمول کے تعلقات برقرار رکھنے کی خواہاں ہے اور اس جماعت کے ساتھ تعاون کے لیے بھی تیار ہے۔
آپ کا تبصرہ