2 اکتوبر، 2026، 1:43 PM

قم میں شہدائے مقاومت کانفرنس؛ سید حسن نصراللہ کو خراج عقیدت

قم میں شہدائے مقاومت کانفرنس؛ سید حسن نصراللہ کو خراج عقیدت

شہید سید حسن نصراللہ، شہید سید ہاشم صفی الدین اور مزاحمتی محاذ کے دیگر شہداء کی یاد میں ’’شہدائے مقاومت کانفرنس‘‘ قم کے مرکزی کانفرنس ہال الغدیر میں منعقد ہوئی، جس میں علما، دینی و سیاسی شخصیات، مزاحمتی تحریکوں کے نمائندوں اور مختلف ممالک سے آئے وفود نے شرکت کی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین شعبہ قم کی جانب سے شہید سید حسن نصراللہ، شہید سید ہاشم صفی الدین اور مزاحمتی محاذ کے دیگر شہداء کی یاد میں ’’شہدائے مقاومت کانفرنس‘‘ قم کے مرکزی کانفرنس ہال الغدیر میں منعقد ہوئی، جس میں علما، دینی و سیاسی شخصیات، مزاحمتی تحریکوں کے نمائندوں اور مختلف ممالک سے آئے وفود نے شرکت کی۔

قم میں شہدائے مقاومت کانفرنس؛ سید حسن نصراللہ کو خراج عقیدت

تقریب کا آغاز مولانا بشارت امامی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد شہزاد حسین نے نعتِ رسول اکرم (ص) اور شہید سید حسن نصراللہ کی یاد میں ترانہ پیش کیا۔

گروہِ پیامِ اسلامی نے فارسی، عربی، اردو اور انگریزی زبانوں میں ترانے پیش کیے۔

جہاد اسلامی فلسطین کے نمائندے کا سید حسن نصراللہ کو خراج عقیدت

تحریکِ جہاد اسلامی فلسطین کے نمائندے ناصر ابوشریف نے شہید سید حسن نصراللہ کی شخصیت، قیادت اور انتظامی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں اسلامی مزاحمت کی نمایاں شخصیات میں شمار کیا۔ انہوں نے مزاحمتی تحریک کو مضبوط بنانے اور مسئلۂ فلسطین کی حمایت میں سید حسن نصراللہ کے کردار کو اجاگر کیا۔

ناصر ابوشریف نے امت مسلمہ کے اتحاد اور مسئلۂ فلسطین کی حمایت میں مسلمانوں کے درمیان یکجہتی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور شہید سید حسن نصراللہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔

قم میں شہدائے مقاومت کانفرنس؛ سید حسن نصراللہ کو خراج عقیدت

یمنی سفیر: فلسطین اور مسجد اقصیٰ کا دفاع مزاحمت کا اہم مقصد ہے

اس کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران میں یمن کی انقلابی حکومت کے سفیر محمد ابراہیم الدیلمی نے خطاب کیا۔

انہوں نے خطے کی موجودہ صورتحال، مزاحمتی محاذ اور شہید سید حسن نصراللہ کے کردار پر گفتگو کی۔

قم میں شہدائے مقاومت کانفرنس؛ سید حسن نصراللہ کو خراج عقیدت

انہوں نے شہید سید حسن نصراللہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کی حمایت اور مزاحمت کی راہ میں ان کے کردار کو نمایاں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کا دفاع خطے کی مزاحمتی تحریک کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔

یمنی سفیر نے انصار اللہ کے حوالے سے بعض الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعویٰ درست نہیں کہ انصار اللہ خانہ کعبہ یا دیگر اسلامی مقدسات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا: ’’یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگ مسجد اقصیٰ کا دفاع کرتے ہیں، وہ کعبہ پر حملہ کریں؟‘‘

یمن کے خلاف جنگ میں پاکستانی مؤقف کا ذکر

محمد ابراہیم الدیلمی نے یمن کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے 2015 میں یمن کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہونے کے وقت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔

ان کے مطابق ان کوششوں کے نتیجے میں پاکستانی فوج نے یمن کے خلاف فوجی کارروائی میں شرکت نہیں کی۔

انہوں نے اس مؤقف کو یمنی عوام کی حمایت میں ایک اہم اقدام قرار دیتے ہوئے اس پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

قم میں شہدائے مقاومت کانفرنس؛ سید حسن نصراللہ کو خراج عقیدت

یمنی سفیر نے مزید کہا کہ خطے میں حالیہ صورتحال کے آغاز سے اب تک وہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام والمسلمین راجہ ناصر عباس جعفری سے رابطے میں ہیں اور یمن سے متعلق امور اور خطے کی صورتحال پر ان سے مشاورت جاری ہے۔

حجۃ الاسلام لک زائی: حسن نصراللہ نے انفرادی جذبے کو منظم تحریک میں بدلا

کانفرنس کے اختتامی حصے میں دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم کے تحقیقی شعبے کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین نجف لک زائی نے شہید سید حسن نصراللہ کی شخصیت اور ان کی نمایاں خصوصیات پر گفتگو کی۔

انہوں نے قرآن کریم کی آیت ’’إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِهِۦ صَفّٗا كَأَنَّهُم بُنۡيَٰنٞ مَّرۡصُوصٞ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے منظم صف بندی اور اجتماعی جدوجہد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

حجۃ الاسلام لک زائی نے کہا کہ انفرادی طور پر قربانی اور ایثار کا جذبہ قابل قدر ہے، تاہم انفرادی جذبے کو ایک منظم، اجتماعی اور تنظیمی تحریک میں تبدیل کرنا ایک زیادہ مشکل مرحلہ ہے۔

قم میں شہدائے مقاومت کانفرنس؛ سید حسن نصراللہ کو خراج عقیدت

انہوں نے کہا کہ شہید سید حسن نصراللہ جیسی شخصیات کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایمان، ایثار اور قربانی کے انفرادی جذبے کو اسلامی مقاصد اور مزاحمت کی راہ میں ایک منظم اور متحد تحریک کی شکل دینے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔

دینی و بین الاقوامی شخصیات کی شرکت

شہدائے مقاومت کانفرنس میں مختلف دینی شخصیات، مزاحمتی تحریکوں کے نمائندوں اور بین الاقوامی وفود نے شرکت کی۔ شرکاء میں آیت اللہ شیخ حسین، حجۃ الاسلام عبدالمحسن البقشی، حوزہ علمیہ آل البیت کے ذمہ دار اور دیگر دینی و سماجی شخصیات شامل تھیں۔

کانفرنس کے دوران مقررین نے شہید سید حسن نصراللہ اور دیگر شہداء کی خدمات اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین، اسلامی مقدسات کے دفاع اور خطے میں مزاحمتی تحریکوں کے درمیان تعاون اور اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔

News ID 1941813

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha