مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات میں غاصب صیہونی حکومت کے نمائندے نے کہا کہ فلائی دبئی کے واقعے کے پیچھے محرکات ابھی تک واضح نہیں ہوئے اور اس بارے میں نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس غاصب صیہونی عہدیدار نے مزید کہا کہ قابض حکومت کے وزیراعظم نے بدھ کے روز ’’فلائی دبئی‘‘ کے واقعے کے بعد متحدہ عرب امارات کے صدر سے گفتگو کی۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (وام) نے اعلان کیا کہ ملک کی اٹارنی جنرل نے فلائی دبئی کے طیارے کے واقعے اور اس کے کسی بھی ممکنہ دہشت گردانہ سرگرمی سے تعلق کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
اماراتی استغاثہ کا یہ حکم ایسے وقت میں جاری ہوا ہے جب بدھ 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز نمبر FZ1073، جو دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی، کاک پٹ میں ایک سکیورٹی واقعہ پیش آنے کے بعد اپنا راستہ تبدیل کرنے اور سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز سے متعلق واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور امارات کی اٹارنی جنرل نے فلائی دبئی کی پرواز کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ