4 نومبر، 2026، 11:42 PM

ٹرمپ کی انتخابات پر جنگ کے اثرات کا اعتراف کے ساتھ کئی ہرزہ سرائیاں

ٹرمپ کی انتخابات پر جنگ کے اثرات کا اعتراف کے ساتھ کئی ہرزہ سرائیاں

امریکی صدر نے ایران کے خلاف جنگ کے انتخابی نتائج پر اثرات کا اعتراف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگرچہ اس جنگ کے نتیجے میں ریپبلکن پارٹی کو شکست بھی ہو جائے، تب بھی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی دہشت صدر نے ایران کے خلاف جنگ کے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات پر اثرات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے معلوم تھا کہ جنگ انتخابات پر اثر انداز ہوگی۔

انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف اپنے سابقہ دعوے کو دہراتے ہوئے کہا کہ جنگ وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہو یا نہ ہو، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ٹرمپ نے ایران کے خلاف جارحیت شروع کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر مجھے ایران کے بارے میں دوبارہ فیصلہ کرنے کا موقع ملے تو میں یہی فیصلہ کروں گا۔ میں ایران میں کیے گئے اقدامات سے مختلف کوئی اقدام نہیں کرتا اور ہم نے ان کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے۔

امریکی صدر نے ایران جنگ کے اثرات کے باعث ریپبلکن پارٹی کو درپیش انتخابی شکست اور عوامی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے ایران کے معاملے میں کامیاب کارکردگی دکھائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کے معاملے میں غیر معمولی کام کیا ہے اور آبنائے ہرمز کھلی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں جنگ کے اقتصادی اثرات کے بارے میں کہا کہ اس تنازع کے باعث مختصر مدت میں پٹرول کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔

ٹرمپ نے امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اپنی اقتصادی کارکردگی پر ہونے والی تنقید کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ توقع تھی کہ ایران کے خلاف جنگ کے بعد تیل کی قیمتوں میں اس سے کہیں زیادہ اضافہ ہوگا۔

امریکی صدر نے واشنگٹن میں اندرونی اختلافات کے بارے میں بھی کہا کہ ڈیموکریٹس نے ان سے رابطہ کیا ہے اور بعض معاملات پر بات چیت کی خواہش ظاہر کی ہے، جو ان کے بقول ایک مثبت پیش رفت ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈیموکریٹس کے ساتھ اتفاقِ رائے ہو جائے گا، بشرطیکہ وہ کوئی تخریبی رویہ اختیار نہ کریں۔

تاہم، ٹرمپ نے اپنے بیان کے تسلسل میں ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ ’’ایرانی قاتلوں‘‘ کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ ڈیموکریٹس کے اقدامات سے مطمئن نہ ہوئے تو انہیں فیصلوں کے معاملے میں ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔

ٹرمپ نے اپنی اور اپنی جماعت کی حوصلہ افزائی اور ریپبلکن پارٹی کی شکست کا جواز پیش کرنے کے لیے دعویٰ کیا کہ اگر انتخابات کے بیلٹ پیپرز پر ان کا اپنا نام بھی موجود ہوتا تو ریپبلکن کامیاب ہو جاتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے اور اس وقت ہمارے پاس ریپبلکن پارٹی کی قیادت کے لیے اس ایوان میں دو امیدوار موجود ہیں۔

News ID 1942615

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha