مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سابق چیف جسٹس آیت اللہ آملی لاریجانی نے عالمی استکبار کے خلاف جدوجہد اور یومِ طلبہ کی مناسبت سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سال 13 آبان کو امریکی حکمرانوں کی شکستوں کا سلسلہ میدانِ جنگ سے پولنگ سٹیشن تک پہنچ گیا؛ صدر اور ان کی جماعت نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، دونوں سے اپنی اکثریت کھو دی۔ خود انہوں نے بھی یہ تسلیم کیا کہ اس شکست میں ایران کا حصہ ہے، تاہم جنگ کے بارے میں کہا کہ میں اس کے بارے میں نہیں سوچتا۔ میں نے درست کام کیا۔ آئندہ بھی یہی کروں گا۔
یہی وہ خبیث استکبار ہے جس کے مقابلے میں ہماری قوم ڈٹ کر کھڑی ہوئی؛ ایسی طاقت جو نہ بین الاقوامی قانون کی بات سنتی ہے، نہ انسانی ضمیر کی اور اب تو اپنے عوام کے ووٹوں کی بھی پروا نہیں کرتی۔
«وَإِذَا قِیلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ»اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو غرور اسے گناہ پر آمادہ کر دیتا ہے۔
اگرچہ جس سیاسی دھڑے نے آج کانگریس کا کنٹرول حاصل کیا ہے، اس کا ماضی بھی اس کی مخالف جماعت کی طرح ظاہر کرتا ہے کہ وہ عموماً خارجہ پالیسی کا راستہ تبدیل نہیں کرتا، لیکن آج کے انتخابات امریکہ کی جنگ پسندانہ پالیسی کے خلاف ایک بڑا ’’انکار‘‘ اور ایک طرح کا ریفرنڈم تھے۔ اگر کامیاب ہونے والی جماعت سبق حاصل کرنے والی ہو تو وہ اس ریفرنڈم کا پیغام سمجھ جائے گی اور جنگ مسلط کرنے کے انجام کو واضح طور پر دیکھ لے گی۔
آپ کا تبصرہ