مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین قمی نے «آیات کے ساتھ زندگی» کے منصوبے کے حوالے سے کہا کہ آج جس چیز کو «آیات کے ساتھ زندگی» کے عنوان سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، وہ کسی ایک فرد کی فکر اور سوچ کا نتیجہ نہیں، بلکہ مختلف افراد نے مشترکہ نظریات اور تشویش کے ساتھ اس کی تشکیل میں کردار ادا کیا ہے۔
قمی نے رہبرِ شہید کی قرآنی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاید ان کی تحریری ہدایات کے لیے ’’وصیت‘‘ کی تعبیر درست ہو، کیونکہ رہبر اس بات پر زور دیتے تھے کہ قرآن کے حوالے سے کاموں کو راستے میں ادھورا نہ چھوڑا جائے۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ اس امانت کو سنجیدگی سے آگے بڑھائیں اور اس منصوبے پر عمل درآمد کا سفر رکنے نہ دیں۔
حجت الاسلام قمی نے «آیات کے ساتھ زندگی» منصوبے کے مواد پر نظرثانی اور اسے مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مواد کی تیاری اور آیات کے انتخاب میں اساتذہ اور ماہرین کی آراء سے استفادہ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی استاد سمجھتا ہے کہ کسی آیت کو شامل کیا جانا چاہیے یا موجودہ انتخاب اور مواد میں اصلاح کی ضرورت ہے تو ان تجاویز کو سنا اور ان کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے ماہِ رمضان میں قرآن کی منتخب آیات کے فروغ کی گنجائش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر ماہِ رمضان میں دو یا تین آیات پر خصوصی توجہ کے ساتھ توجہ مرکوز کی جانی چاہیے؛ ایسی آیات جو معاشرے کے گہرے مسائل سے مربوط ہوسکیں اور قرآن کے بنیادی پیغامات کو قابلِ فہم زبان میں لوگوں تک پہنچا سکیں۔
ایرانی اسلامی تبلیغاتی مرکز سربراہ نے مزید کہا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ یہ آیات معاشرے کے تبلیغی اور ذرائعِ ابلاغ کے ماحول میں لوگوں تک پہنچیں اور مخاطبین کے دل و دماغ میں اتر جائیں۔ اگر قرآن کو لوگوں کی زندگی میں سنجیدہ مقام دینا ہے تو روزمرہ معاشرتی مسائل سے متعلق آیات کا درست انتخاب، تشریح اور لوگوں تک ان کی رسائی ضروری ہے۔
قمی نے «آیات کے ساتھ زندگی» پروگرام کو قرآن کے میدان میں اہم ترین جہادی سرگرمیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس راستے میں جتنے زیادہ پختہ ارادے، افکار اور سوچیں ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہوں گی، اس کے ثمرات اور برکات بھی اتنی ہی زیادہ ہوں گی اور یہ تحریک معاشرے کی ترقی کے مطلوبہ نتیجے کے مزید قریب پہنچے گی۔
انہوں نے قرآن کو لوگوں کی سماجی زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ قرآن صرف ایک مقدس اور قابلِ احترام کتاب نہ ہو، بلکہ لوگ قرآن سے انس پیدا کریں اور ان کے بہت سے ذہنی و سماجی تصورات قرآنی مفاہیم کی بنیاد پر تشکیل پائیں۔
قمی نے مزید کہا کہ ہمیں اس مقام تک پہنچنا چاہیے کہ قرآن کی مؤثر آیات معاشرے کے ذہنوں میں موجود ہوں اور لوگ زندگی کے مختلف مسائل کا سامنا کرتے وقت ان آیات کی طرف رجوع کرسکیں۔ اگر قرآن کتابِ زندگی ہو تو اس کی تعلیمات کی طرف رجوع کرکے بہت سے انفرادی اور سماجی مسائل کو بہتر طور پر سمجھا اور ان کے حل تلاش کیے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے موجودہ معاشروں کے حالات اور مثبت پہلوؤں پر توجہ دینے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کی تعلیمات میں نعمتوں کو دیکھنے اور نمایاں کرنے پر زور دیا گیا ہے؛ چنانچہ آیت «وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ» میں اللہ کی نعمت کو بیان کرنے پر تاکید کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قرآنی تعلیمات کی بنیاد پر معاشرے کی قوتوں، کامیابیوں اور صلاحیتوں کو بھی دیکھا اور بیان کیا جانا چاہیے۔
حجت الاسلام قمی نے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہی اجتماعی کام عوامی تحریک کی ایک مثال بن سکتا ہے جو آج معاشرے کے بعض مسائل کے حل میں مؤثر ثابت ہو۔ اگر معاشرے کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے تو شاید قرآن کی طرف رجوع کرنے سے زیادہ گہرا اور مؤثر کوئی راستہ موجود نہ ہو۔
انہوں نے آخر میں آئندہ کے پروگراموں میں قرآن کے مقام اور ماہِ رمضان میں اس الٰہی کتاب پر توجہ کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس تحریک کے قرآنی ہونے اور اس حوالے سے موجود خصوصی تاکیدات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے مستقبل کے لیے واضح تصور اور منصوبہ ہونا چاہیے اور مختلف صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے لوگوں کی زندگی میں قرآن کی زیادہ نمایاں موجودگی کے لیے زمینہ فراہم کرنا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ