مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک میں فلسطین کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس میں عرب، اسلامی، مغربی اور یورپی ممالک کے حکام نے مسئلہ فلسطین حل کی حمایت کی اور اسرائیل کے اقدامات کو اس راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔
اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزرا فلسطینیوں کے زندہ رہنے کے حق کو مسترد کرتے ہیں اور اس حوالے سے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
اردن کے وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل سب کے لیے منصفانہ امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے مواقع ضائع کردیئے گئے تو اس کا متبادل ایک ریاست کا قیام ہوگا، جو امن کا باعث نہیں بن سکتا۔
الصفدی نے زور دیا کہ ایسی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کو روکا جانا چاہیے جو مغربی کنارے کے شمالی حصے کو جنوبی حصے سے الگ کرتی ہیں۔
اسپین کے وزیر خارجہ نے غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں انسانی صورتحال اب بھی تباہ کن ہے۔ امن کی حمایت اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے نفرت اور امتیاز پر مبنی بیانیے کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔
مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا کہ قاہرہ اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے برطانیہ کے اقدام کو سراہتا ہے۔
عبدالعاطی نے کہا کہ مصر نے ثالثوں کے تعاون سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق منصوبے پر عمل درآمد کے لیے روڈ میپ کی تکمیل کے حوالے سے اتفاق رائے حاصل کیا ہے۔
مصری وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مصر فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے مقصد سے بنائے جانے والے منصوبوں اور پالیسیوں کی مخالفت کرتا ہے اور مغربی کنارے کو غزہ سے الگ ہونے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ پر فوجی حملوں کا جاری رہنا اور انسانی امداد کی رسائی روکنا صورتحال کے دوبارہ دھماکہ خیز رخ اختیار کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
عبدالعاطی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی اداروں کو مسلسل نشانہ بنانا اور انہیں ختم کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے اور اس کا نتیجہ صرف مزید افراتفری میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔
جاپان کے وزیر خارجہ نے بھی کانفرنس میں کہا کہ دو ریاستی حل کے حصول کا راستہ روز بروز مشکل ہوتا جارہا ہے اور انہوں نے اسرائیل سے یک طرفہ اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ نے غزہ کی صورتحال کے بارے میں کہا کہ اس علاقے میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے عالمی برادری کے لیے باعث شرمندگی اور تل ابیب کے لیے باعث ندامت ہونا چاہیے۔
انڈونیشیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اعلامیہ نیویارک کے اعلان کو ایک سال گزرنے کے باوجود فلسطینی عوام اب بھی تشدد اور بے گھری کا شکار ہیں۔
قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور محمد الخلیفی نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی پیش رفت نے دو ریاستی حل کے لیے غیر معمولی خطرہ پیدا کردیا ہے، بالخصوص مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کی وجہ سے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قطر غزہ میں جنگ بندی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ اسرائیل اپنے اقدامات کے ذریعے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کی کوششوں کو کمزور کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ