23 ستمبر، 2026، 4:03 AM

اسرائیل سے متعلق قراردادیں محض کاغذی کاروائی ہیں، شاہ اردن

اسرائیل سے متعلق قراردادیں محض کاغذی کاروائی ہیں، شاہ اردن

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب معاملہ اسرائیل سے متعلق ہو تو بین الاقوامی قراردادیں محض کاغذ پر سیاہی بن کر رہ جاتی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شاہ عبداللہ دوم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں درپیش چیلنجز اچانک پیدا نہیں ہوئے اور آج جن معاملات کو ہم نظرانداز کر رہے ہیں، وہی ہمارا مستقبل تشکیل دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جنگ نے ظاہر کر دیا ہے کہ خطے سے باہر کے لوگ توانائی اور خوراک کے بحرانوں کے اثرات سے کس قدر متاثر ہوئے ہیں۔ لبنان سے یمن اور سوڈان تک جاری تنازعات انسانی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

شاہ اردن نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے خطے کے بحرانوں کے دنیا پر اثرات نہیں پڑتے، انہیں توانائی اور خوراک کی قیمتوں پر نظر ڈالنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جواب دہی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب ہم معاملات کو ان کے اصل نام سے پکاریں، جیسے فلسطینیوں کے وجود کو مٹانے اور غزہ میں ایک نئی حقیقت مسلط کرنے کی کوشش۔ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے زبردستی نکالنا جبری نقل مکانی ہے۔

شاہ عبداللہ دوم نے مزید کہا کہ عالمی برادری فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے صرف منظم کر رہی ہے۔ عالمی برادری نے اسرائیل کی ہر نئی جارحیت اور ہر خلاف ورزی کو عارضی سمجھا ہے۔ مغربی کنارے میں جارحیت کرنے والے عناصر محض چند شرپسند نہیں بلکہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی وجود کو مٹانے کی کوشش دو طریقوں سے کی جا رہی ہے: غزہ کی تباہی اور مغربی کنارے کی اراضی کا عملی الحاق۔ اسرائیل اپنے اقدامات پر ہونے والی نگرانی سے ناخوش ہے اور توجہ ہٹانے کی کوششیں اب کارگر نہیں رہیں۔ جب معاملہ اسرائیل سے متعلق ہو تو بین الاقوامی قراردادیں محض کاغذ پر سیاہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری شام میں اسرائیل کی جارحیت کو بدستور نظرانداز کر رہی ہے، جس سے اسے اپنی کاروائیاں جاری رکھنے کے لیے گرین سگنل مل رہے ہیں۔ اسرائیل کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کو ناممکن بنانا ہے۔

شاہ اردن نے اعلان کیا کہ اردن کی شمالی سرحدوں یا آبی سلامتی کو درپیش کوئی بھی خطرہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور ہم اسے نظرانداز نہیں کریں گے۔

News ID 1941586

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha