مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف اور حضرت خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے ہفتہ دفاع مقدس کی مناسبت سے جاری بیان میں کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ملک کے قومی مفادات، عوام کے حقوق اور ارضی سالمیت کے تحفظ کے لیے دشمن کے مقابلے میں کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
بیان میں کہا گیا کہ 22 ستمبر ایران کی تاریخ میں ایک عظیم حماسہ کی یاد دلاتا ہے، جب ایرانی قوم نے ایمان، اتحاد اور مزاحمت کے ذریعے آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران بعثی عراق کی فوجی جارحیت اور عالمی طاقتوں کے سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی دباؤ کا مقابلہ کیا۔
بیان کے مطابق آٹھ سالہ دفاع مقدس کے تجربات نے ایران کی دفاعی طاقت اور اقتدار کی ترقی کے عمل کو آگے بڑھایا اور ملک کو مضبوط ایران کی جانب گامزن کیا۔
جنرل اسٹاف نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو بھی حالیہ بارہ روزہ جنگ اور رمضان جنگ میں ایرانی مسلح افواج کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ایران نے مقامی علم، دفاعی صنعت میں اسٹریٹجک خود انحصاری اور جدید فوجی ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے فوجی و سکیورٹی ڈھانچوں اور اسٹریٹجک مفادات کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ بیان میں آبنائے ہرمز کے انتظام کو ایرانی طریقہ کار کے تحت اپنے ہاتھ میں لینے کو بھی اس کی ایک مثال قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی قوم دشمن کے امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں پہنچائے گئے نقصانات کے بعد اقتصادی، شناختی اور میڈیا جنگ سمیت دشمن کی مشترکہ کارروائیوں کا بھی مقابلہ کرے گی اور عالمی استکبار کے خلاف مزید شکست عائد کرے گی۔
جنرل اسٹاف اور خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے دفاع مقدس کے شہداء، ایثارگروں اور ان کے اہل خانہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بری فوج، سپاہ پاسداران، وزارت دفاع، بسیج اور سرحدی محافظ قومی مفادات، عوام کے حقوق اور ایران کی ارضی سالمیت کے دفاع میں دشمن کے سامنے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے اور جارحین و ایران مخالف قوتوں، بالخصوص امریکی و صہیونی دشمنوں اور ان کے اتحادیوں کو مزید شکستوں کا ذائقہ چکھائیں گے۔
آپ کا تبصرہ