10 اپریل، 2007، 9:31 PM

ایران

ایران سے آزاد ہونے والے برطانوی فوجیوں پر میڈیا کے ساتھ گفتگو کرنے پربرطانوی وزارت دفاع نے پابندی عائد کردی ہے

ایران سے آزاد ہونے والے برطانوی فوجیوں پر میڈیا کے ساتھ گفتگو کرنے پربرطانوی وزارت دفاع نے پابندی عائد کردی ہے

برطانوی وزارت دفاع نے ایران سے آزاد ہونے والے اپنےفوجیوں کو اپنی داستانیں فروخت کرنے پر پابندی لگادی ہے داستانیں فروخت کرنے پر برطانوی حکومت کوبرطانوی عوام کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اس طرح ایران کو بدنام کرنے کی برطانیہ کی یہ کوشش بھی ناکام ہوگئی ہے

 مہرخبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برطانوی وزارت دفاع نے ایران سے آزاد ہونے والے  اپنےفوجیوں کو اپنی داستانیں فروخت کرنے پابندی لگادی ہے داستانیں فروخت کرنے پر برطانوی حکومت کوبرطانوی عوام کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا  اور اس طرح ایران کو بدنام کرنے کی برطانیہ کی یہ کوشش بھی ناکام ہوگئی ہے برطانوی حکومت کے دباؤ اور لالچ میں آکر بعض فوجیوں نے اپنے بیانات میں ایرانی حکومت کے اچھے سلوک اور رویے کو مخدوش کرنے کی کوشش کی اور ان کی داستانوں کو میڈيا میں مخصوص انداز میں فروخت کرن کی اجازت دیدی جس پر عراق میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لواحقین اور برطانوی عوام اور سابق وزير دفاع اور دیگر برطانوی ماہرین نے شدید تنقید کی اور برطانوی حکومت کے اس اقدام کو غلط قراردیا نامہ نگاروں کے مطابق ان پندرہ فوجیوں میں سے خاتون فوجی فے ٹرنے کو انٹرویو کے لیے ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ رقم ملی اور اس پر خاص طور پر ان فوجیوں کے رشتہ داروں نے شدید تنقید کی جو حالیہ جنگوں میں ہلاک ہو چکے ہیںکنزرویٹیو دورِ حکومت کے ایک وزیر دفاع سر میلکم رفکنڈ کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی کبھی اجازت نہ دیتے کہ فوجی اپنے انٹرویو ذرائع ابلاغ کو بیچیں۔ ان کے الفاظ میں " میں کبھی اجازت نہ دیتا  میرے نزدیک یہ بہت بیوقوفی کی بات ہوگی۔ اس کی وجہ سے بہت نقصان ہو گا، اُن لوگوں کا دل دکھے گا جن کے رشتہ دار جنگوں میں ہلاک ہوئے ہیں یا شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اس بات سے جو بھی فائدہ ہو سکتا ہے، وہ اتنا کم ہے کہ اس کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی" مبصرین کا خیال ہے کہ برطانوی حکومت کا یہ ڈرامہ اور ناٹک بھی ایران کی صداقت کے سامنے بری طرح ناکام ہوگیا ہے

 

News ID 468568

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha