مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر جنرل یداللہ جوانی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج زمینی، بحری اور فضائی شعبوں میں مکمل اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں اور دشمن کی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
انہوں نے قم میں بسیج کے مزاحمتی علاقوں کے ثقافتی نیٹ ورک، صالحین اور سیاسی رہنماؤں کے بصیرتی و سیاسی اجتماع سے خطاب کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دشمن کی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دشمن اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں پر فوجی حملے اور بمباری تنہا اس کے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں، اس لیے اب وہ داخلی اتحاد کو کمزور کرنے، اختلافات پیدا کرنے اور ملک میں عدم استحکام کی فضا قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مخالف محاذ فوجی اقدامات کے ساتھ ساتھ سیاسی، اقتصادی، سکیورٹی، ذرائع ابلاغ اور سفارتی ذرائع بھی استعمال کر رہا ہے تاکہ معاشرے میں دراڑیں پیدا کرکے قومی اتحاد اور یکجہتی کو متاثر کیا جا سکے۔ اس لیے ہائبرڈ جنگ کی نوعیت کو سمجھنا اور اس کا ہمہ جہت مقابلہ کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
سپاہ پاسداران کے سیاسی مشیر نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج زمینی، بحری اور فضائی شعبوں میں اتحاد، ہم آہنگی اور شبانہ روز کوششوں کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں اور دشمن کی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
جنرل جوانی نے مزید کہا کہ ہائبرڈ جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں مربوط حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔ جس طرح دشمن مختلف محاذوں پر منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کے ساتھ کارروائیاں کرتا ہے، اسی طرح ہمیں بھی سیاسی، اقتصادی، سکیورٹی، ابلاغی اور سفارتی شعبوں میں منظم اور متناسب اقدامات کرنے چاہییں۔ انہوں نے زور دیا کہ متعلقہ حکام حالات کا درست ادراک کرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کریں۔
انہوں نے علاقائی تنازعات کے پھیلاؤ کے اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ جنگ کا دائرہ ایک علاقائی تصادم سے بڑھ کر بین العلاقائی جنگ کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ حالیہ پیش رفت نے ظاہر کیا ہے کہ اس طرح کے تنازعات کے اثرات خطے سے باہر کے ممالک تک بھی پھیل سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ