1 اکتوبر، 2026، 4:24 PM

انسانی اعمال اور زندگی کے تمام معاملات میں توحید کے آثار نمایاں ہونے چاہئیں، آیت اللہ جوادی آملی

انسانی اعمال اور زندگی کے تمام معاملات میں توحید کے آثار نمایاں ہونے چاہئیں، آیت اللہ جوادی آملی

آیت الله العظمیٰ جوادی آملی نے توحید کے عملی اثرات، علم پر عمل، سماجی روابط میں احترام اور ظلم کے مقابلے میں عزت و سربلندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو باعزت اور سربلند زندگی گزارنی چاہیے اور ظلم قبول نہیں کرنا چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت الله العظمیٰ جوادی آملی نے قم کی مسجد اعظم میں اپنے ہفتہ وار درس اخلاق میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی نہج البلاغہ میں موجود ارشادات کی روشنی میں توحید اور اس کے انفرادی و اجتماعی اثرات بیان کیے۔

انہوں نے کہا کہ موحد وہ شخص نہیں جو صرف زبان سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرے، بلکہ اس کے اعمال اور زندگی کے تمام معاملات میں توحید کے آثار نمایاں ہونے چاہئیں۔ انسان کو اپنی زندگی کے تمام شعبوں کو «لا حول ولا قوة إلا بالله» کے سائے میں دیکھنا چاہیے۔

آیت الله جوادی آملی نے علم پر عمل کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں: «لَا تَجْعَلُوا عِلْمَکُمْ جَهْلًا، وَیَقِینَکُمْ شَکّاً»؛ اپنے علم کو جہالت اور یقین کو شک نہ بناؤ۔ جب حق کو جان لو تو اس پر عمل کرو۔ انہوں نے خاص طور پر حوزوی طلبہ اور علما کو اپنے علمی سرمایہ کو ضائع نہ کرنے کی نصیحت کی۔

انہوں نے کہا کہ انسان کی کتاب، تحریر، گفتگو اور تقریر اس کی علمی شخصیت کی نمائندگی کرتی ہے، اس لیے ہر بات سوچ سمجھ کر کہنی اور لکھنی چاہیے۔

انہوں نے سماجی تعلقات کے بارے میں کہا کہ ضرورت مند کے سامنے عزت کے ساتھ پیش آنا چاہیے، کیونکہ «المسکین رسول الله»؛ ضرورت مند گویا خدا کا فرستادہ ہے۔

آیت الله جوادی آملی نے رزق کے بارے میں بھی امید دلائی اور کہا کہ انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ کے پاس موجود رزق محفوظ ہے۔

انہوں نے ظلم کے مقابلے میں عزت و استقامت پر زور دیتے ہوئے امیرالمؤمنین علیہ السلام کا فرمان نقل کیا: «لَا یَمْنَعُ الضَّیْمَ الذَّلِیلُ»؛ ذلت قبول کرنے والا ہی ظلم برداشت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: عزت و سربلندی کے ساتھ زندگی گزاریں اور ستم پذیر نہ بنیں۔ مردانہ زندگی گزارنے کا مطلب شجاعت اور ہنرمندی کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔

انہوں نے عوام کی استقامت اور قربانیوں کو قوم کی عظمت اور اتحاد کا مظہر قرار دیا اور آخر میں مرحومین، شہداء اور حاضرین کے لیے دعا کی۔

News ID 1941774

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha