مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ہفتہ کو تہران کے خلاف اپنے معاندانہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ میں ایران کی تجویز مسترد کرتا ہوں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر نے اپنی پہلی صدارتی مدت میں ایران کے خلاف ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی کی ناکامی کے تجربے کے باوجود دعویٰ کیا ہے کہ میں ایسے کسی بھی معاہدے کو مسترد کرتا ہوں جس کے تحت ایران بھاری نقصانات اٹھانے کے بعد فوری طور پر تجارت بحال کرنا چاہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حوالے سے جاری سرکاری رپورٹس کے برخلاف، جن کے مطابق ایران پر غیر قانونی حملے کے بعد پیدا ہونے والی بدامنی اور توانائی کی منڈیوں پر اثر انداز ہونے کے باعث آبنائے ہرمز بند ہے، دعویٰ کیا کہ ہم ایک بڑی کامیابی حاصل کر رہے ہیں اور آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول ہمارے پاس ہے۔ بڑی مقدار میں تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے اور گزشتہ رات 29 بحری جہاز وہاں سے گزرے۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی بدامنی کے بعد مغربی ممالک میں پیدا ہونے والے ایندھن کے بحران سے خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے، کیونکہ اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایران معاہدہ چاہتا ہے اور مجھے بھی معاہدہ کرنا پسند ہے، لیکن یہ تجویز ناقابلِ قبول ہے۔ تہران کو مالی رقوم نہ ملنے کے باعث نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ اس کی آمدنی کا ذریعہ آبنائے ہرمز ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرکے خود کو ایک بند گلی میں پھنسا دیا ہے اور ہم نے اس پر تاریخ کا شدید ترین فوجی محاصرہ نافذ کیا ہے۔ ہم نے آبنائے ہرمز کے گرد فولادی دیوار کھڑی کردی ہے اور اس ناکہ بندی کے باعث ایران کے پاس اب کوئی رقم نہیں ہے۔
ٹرمپ نے ایک صحافی کے اس سوال پر کہ کیا آپ صرف ایسے میڈیا کو چاہتے ہیں جو آپ کی حمایت کرے؟ کہا کہ میں حقیقی خبروں کا خواہاں ہوں، آپ جیسی جعلی خبروں کا نہیں۔ مجھے آزاد صحافت پسند ہے۔ مجھے صرف جعلی صحافت پسند نہیں ہے۔
آپ کا تبصرہ