مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون سے ملاقات میں آبنائے ہرمز میں امریکہ اور صہیونی حکومت کے جارحانہ اقدامات سے پیدا ہونے والی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے تمام ممالک پر ذمہ دارانہ اور حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرنے اور خطے میں امریکہ کے غیر قانونی اقدامات کے ساتھ ہم آہنگی سے گریز کرنے پر زور دیا۔
تفصیلات کے مطابق ایران اور جنوبی کوریا کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان سزا یافتہ قیدیوں کی منتقلی سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے تہران اور سیئول کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور روابط و تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے مغربی ایشیا اور جزیرہ نما کوریا کی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔
عراقچی نے امریکہ اور صہیونی حکومت کے جارحانہ اقدامات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی بدامنی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تمام ممالک کی جانب سے ذمہ دارانہ اور حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جانا چاہیے جسے خطے میں امریکہ کے غیر قانونی اور جارحانہ اقدامات کے ساتھ ہم آہنگی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان سزا یافتہ قیدیوں کی منتقلی سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کیے۔
آپ کا تبصرہ