مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیرِ صحت محمد رضا ظفرقندی نے کہا کہ موجودہ حالات میں دوا سازی کی صنعت میں اقتصادی سرگرمی محض منافع کمانے سے بڑھ کر ایک قومی ضرورت بن چکی ہے۔ ادویات کی فراہمی ملک کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادویات پر پابندی نہ ہونے سے متعلق کیے جانے والے دعوؤں کے برخلاف، گزشتہ چند ماہ کے دوران مالی وسائل تک رسائی، زرِ مبادلہ کی منتقلی اور ادویات کی فضائی و بحری ترسیل کے راستوں کو شدید پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان پابندیوں کے باوجود روزانہ کوششوں اور انتظامی اقدامات کے نتیجے میں ادویات کی فراہمی کے لیے متبادل راستے فعال کیے گئے ہیں۔
ظفرقندی نے ملک میں بنیادی اور ضروری ادویات کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں بتایا کہ دوا سازی کی صنعت سے وابستہ تمام افراد کی کوششوں کے نتیجے میں حالیہ حالات شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں ضروری ادویات کی قلت نصف رہ گئی ہے۔ قلت کا شکار ادویات کی تعداد 64 سے کم ہو کر تقریباً 32 اقسام رہ گئی ہے۔
آپ کا تبصرہ