مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اعلان کیا ہے کہ ماسکو، روس کی تیل کی تنصیبات اور صنعتی مراکز پر یوکرائن کے حملوں کے جواب میں یوکرائن کے فوجی صنعتی کمپلیکس اور بنیادی ڈھانچے پر اپنے حملے جاری رکھے گا۔
پیوٹن نے کہا کہ ماسکو، یوکرائن کے حملوں کے جواب میں اس ملک کے مختلف بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے، جن میں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اور ڈیٹا سینٹرز بھی شامل ہیں۔
روسی صدر نے اپنے ملک کی آئل ریفائنریوں پر حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں سے روسی تنصیبات کو کوئی قابلِ ذکر نقصان نہیں پہنچا، تاہم ماسکو یوکرائن کی کارروائیوں کا جواب دے گا۔
پیوٹن نے کیف پر بھی اس سلسلے کا آغاز کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ یوکرائن کے حکام کو اپنی کارروائیوں کے نتائج کو مدنظر رکھے بغیر روسی تنصیبات پر حملے شروع نہیں کرنے چاہیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلا قدم اٹھایا اور ہم نے بھی جواب دینا شروع کر دیا۔ اب وہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ڈیٹا سینٹرز سمیت مختلف نوعیت کی دیگر تنصیبات پر حملوں کی شکایت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے کا آغاز انہوں نے کیا تھا اور انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ قدم اٹھانے سے پہلے انہیں اس کے نتائج پر اچھی طرح غور کرنا چاہیے تھا۔
واضح رہے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ کی جانب سے روس اور یوکرائن کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے حوالے سے معاہدہ طے پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، دونوں فریق ابھی تک اس معاہدے کی تفصیلات اور اس پر عمل درآمد کی شرائط کے بارے میں کسی حتمی اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔
روسی نائب وزیرِ اعظم الیگزینڈر نوواک نے بھی بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ یوکرائن نے روس کے ساراتوف اور ریازان علاقوں میں آئل ریفائنریوں پر حملے کیے ہیں۔
آپ کا تبصرہ