1 اکتوبر، 2026، 5:43 PM

ایران کے پاس دشمن کو جواب دینے کے لیے وافر میزائل موجود ہیں، جنرل بلالی

ایران کے پاس دشمن کو جواب دینے کے لیے وافر میزائل موجود ہیں، جنرل بلالی

سپاہ پاسداران کے اعلی کمانڈر کے مطابق مسلح افواج کے پاس اتنی میزائل صلاحیت موجود ہے کہ طویل محاذ آرائی کی صورت میں بھی کارروائیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر کے مشیر بریگیڈیئر جنرل علی بلالی نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج دشمن کو روکنے کے لیے جتنے میزائل ضروری ہوں، اتنے میزائل داغنے کی صلاحیت اور آمادگی رکھتی ہیں۔

بریگیڈیئر جنرل علی بلالی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میزائل ٹیکنالوجی دیگر ہتھیاروں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہے، اسی لیے میزائل داغنے کو عموماً انتہائی مشکل کام کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
انہوں نے ایک نمائش میں پیش کیے گئے دفاعی سازوسامان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں موجود تمام آلات ملک کے اندر تیار اور مقامی طور پر تیار کیے گئے ہیں۔ بلالی کے مطابق ایران نے دنیا بھر میں دستیاب علم سے استفادہ کیا اور اس طرح کام کیا کہ ملک پر عائد پابندیاں اور رکاوٹیں، ان کے نفاذ کے ذمہ داروں کی کوششوں کے باوجود، ایران کو میزائل، ڈرون اور دیگر شعبوں میں اپنی طاقت بڑھانے اور پیش رفت کرنے سے روک نہیں سکیں۔

ایرانی جنرل نے 1980 کی دہائی میں ایران کے خلاف عراق کی جنگ کے دوران ملک کی میزائل صلاحیتوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران کو اس شعبے میں شدید پابندیوں کا سامنا تھا۔ آٹھ سالہ دفاع کے دوران ایران نے مجموعی طور پر صرف 88 میزائل داغے، کیونکہ یہ ہتھیار انتہائی مہنگے تھے اور ایران کے پاس ان کے اخراجات مکمل طور پر برداشت کرنے کے وسائل نہیں تھے۔
جنرل بلالی کے مطابق اسی وجہ سے ایران کو ایک وقت میں محدود تعداد میں میزائل داغنے پڑتے تھے تاکہ جنگ کے اختتام تک کارروائیاں جاری رکھی جاسکیں، تاہم آج ایران کو ایسی مشکلات کا سامنا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی موجودہ دفاعی صلاحیتیں اسے حملوں کا بھرپور جواب دینے کے قابل بناتی ہیں۔ آج ہر کارروائی میں مسلح افواج ضرورت کے مطابق پوری قوت اور عزم کے ساتھ میزائل داغتی ہیں تاکہ دشمن کو یہ سمجھ آ جائے کہ مارو اور بھاگ جاؤ کا دور ختم ہوچکا ہے۔

جنرل بلالی نے مزید کہا کہ حالیہ جارحیت کے دوران دشمن نے محدود تعداد میں حملے کیے، جبکہ ایران نے اس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ حملے کیے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر کے مشیر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل تیاری اور لانچ کرنے کی صلاحیت اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ اگر کسی محاذ آرائی کا سلسلہ کئی سال تک بھی جاری رہے تو ملک موجودہ رفتار سے اپنی کارروائیاں برقرار رکھ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکام نے ملک کی فوجی صلاحیتوں اور ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے جامع منصوبے بھی تیار کر رکھے ہیں اور یہ اقدامات رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی رہنمائی اور نگرانی میں کیے جاتے ہیں۔

News ID 1941787

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha