27 ستمبر، 2026، 3:43 PM

نواف سلام نے اقوام متحدہ میں صہیونی قبضے کا ایک لفظ بھی ذکر نہیں کیا، حزب اللہ

نواف سلام نے اقوام متحدہ میں صہیونی قبضے کا ایک لفظ بھی ذکر نہیں کیا، حزب اللہ

حزب اللہ کے سینئر رہنما سید ابراہیم الموسوی نے لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی قبضے، جارحیت اور شہریوں کے خلاف جرائم کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی پارلیمنٹ کے رکن مقاومتی پارلیمانی دھڑے سے وابستہ سید ابراہیم الموسوی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لبنانی وزیر اعظم کی تقریر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

الموسوی نے کہا کہ وزیر اعظم کی تقریر لبنان پر اسرائیلی قبضے اور جارحیت کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات اور تباہی کو نظر انداز کرنے کے مترادف تھی۔ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں کتنی بری تقریر کی۔ اس تقریر میں اسرائیلی حکومت کی جارحیت اور لبنانی سرزمین پر اس کے قبضے کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں، بالخصوص بچوں کے خلاف جرائم اور ان خاندانوں کی نسل کشی کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو مکمل طور پر ختم ہوگئے۔ اسی طرح سڑکوں اور زرعی زمینوں کی تباہی، دیہات کو ملبے کا ڈھیر بنانے، اسپتالوں، اسکولوں اور فنی مراکز پر بمباری اور زیتون کے درختوں کی تباہی کی جانب بھی کوئی اشارہ نہیں کیا گیا۔

الموسوی نے ایک تعزیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اپنے مفہوم اور بنیادی اجزا کے اعتبار سے ایسی بنیادی خصوصیات کی حامل ہونی چاہیے جن میں سب سے اہم عوام کا تحفظ اور ان کا دفاع ہے۔

انہوں نے مزاحمت کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک طاقت ہیں، ریاست نہیں؛ ایک متکبر طاقت جو حزب اللہ کی موجودگی ہو یا نہ ہو، اپنے ہی وطن کے خلاف سازش کرتی ہے۔

الموسوی نے مزاحمت کے کردار کے بارے میں کہا کہ ریاست کے قیام اور اس کے تحفظ کا باعث بننے والے یہی جنگجو اور ہیرو تھے، جنہوں نے خدا کی مدد سے 2000 میں کامیابی حاصل کی اور مزاحمت اور آزادی کا دن قائم کیا، جبکہ انہوں نے اس کے بدلے نہ کچھ طلب کیا اور نہ اقتدار میں کوئی اضافی حصہ مانگا۔

News ID 1941701

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha