مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انصار اللہ یمن کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے صنعا میں سعودی انٹیلی جنس سے منسوب ایک دہشت گردانہ کارروائی کے منصوبے کو ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حزام الاسد نے ایک بیان میں کہا کہ یمنی سکیورٹی فورسز نے سعودی حکومت سے وابستہ عناصر کی جانب سے صنعا کے بعض بازاروں اور مساجد کو موٹر سائیکلوں میں نصب بموں اور خودکش حملہ آوروں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنا دی۔
انہوں نے کہا کہ کارروائی کو کسی جانی یا مالی نقصان کے بغیر ناکام بنایا گیا اور اس میں ملوث تمام عناصر کو گرفتار کر لیا گیا، جو سعودی انٹیلی جنس سروس سے رابطے میں تھے۔
الاسد نے کہا کہ یہ کارروائی مارچ 2015 میں صنعا اور صعدہ کی مساجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملوں کی یاد تازہ کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس سے قبل 2014 میں بھی سعودی انٹیلی جنس نے صنعا کے التحریر اسکوائر کو نشانہ بنایا تھا، جبکہ 2013 میں سعودی عرب سے وابستہ 12 خودکش حملہ آوروں نے صنعا کے العرضی اسپتال پر حملہ کیا تھا۔
انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن نے مزید کہا کہ سعودی حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر ان دہشت گردانہ ذرائع کا دوبارہ استعمال اس کے تکفیری رجحانات اور یمنی عوام کی مزاحمت کے مقابلے میں ناکامی کی علامت ہے۔
آپ کا تبصرہ