امریکہ کی دنیا میں کہیں بھی موجودگی مشکلات کے حل کے بجائے مشکلات اور پریشانیوں کا باعث رہی ہے

ایران کے صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی نے پاکستانی سینیٹ کے چیرمین محمد صادق سنجرانی کے ساتھ ملاقات میں ایران اور پاکستان کےگہرے ، دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہاکہ تہران اور اسلام آباد کے تعلقات ایک پڑوسی ملک سے کہیں بڑھ کر ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی سے پاکستانی سینیٹ کے چیرمین محمد صادق سنجرانی نے بدھ کے روز ملاقات کی۔ اس ملاقات میں آیت اللہ رئیسی نے کہاکہ تہران اور اسلام آباد کے تعلقات ایک پڑوسی ملک سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ یہ دو قوموں کے مذہبی اور ثقافتی تعلقات ہیں  جو  مضبوط اور مستحکم تعلقات کا مظہر ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ایران اور پاکستان کے باہمی تعلقات کی مطلوبہ سطح موجودہ سطح سے بہت اوپر  ہونی چاہئے، لہٰذا انہیں مزید فروغ دینے  کے لئے نئے طریقے اپنانے کی ضرورت ہے، باہمی روابط اور تعاون کے فروغ کے لئے کار آمد ذرائع اور صلاحیتوں کو پہچان کر دونوں ممالک  اور خطے کے مفادات کے لئے ان کا استعمال کرنا چاہئے۔ 

ایرانی صدر آیت اللہ رئیسی نے ایران اورپاکستان کے پارلیمانی تعلقات اور تعاون کی توسیع کو بھی اہم سمجھتے ہوئے کہا: دونوں ممالک کی پارلیمنٹ باہمی تعلقات کی توسیع میں تعمیری اور مفید کردار ادا سکتی ہیں۔ 

اس ملاقات میں آیت اللہ رئیسی نے افغانستان میں کشیدگی اور عدم تحفظ پر تشویش کا اظہارکیا اور امن و امان کی بحالی کے لئے ایران و پاکستان کو کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اس وقت افغان عوام انتہائی تشویشناک صورتحال سے گزر رہے ہیں ، ایسے میں ایران اور پاکستان کےلئے  ضروری ہے کہ مسلمانوں کو مزید نقصان پہنچنے سے روکنے  کے لئے مل جل کر کام کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں کہیں بھی امریکہ کی موجودگی مشکلات کے حل کی بجائے مشکلات اور پریشانیوں کا باعث رہی ہے۔ افغانستان کی تقدیر کا فیصلہ افغانیوں کے اپنے ہاتھوں بات چیت کے ذریعے اور پر امن طریقے سے ہونا چاہئے جس میں غیر ملکیوں کی کوئی مداخلت نہ ہو۔ 

اس ملاقات میں چیرمین سینیٹ پاکستان محمد صادق سنجرانی نے آیت اللہ رئیسی کو وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کا تہنیتی پیغام بھی پہنچایا ۔

انہوں نے کہاکہ ایران اور پاکستان یک جان دو قالب کی مانند ہیں جن کے آپس میں برادرانہ تعلقات ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی توسیع اور ترقی میں آپ کے مثبت نقطہ نظر کی بدولت دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون کی سطح نمایاں طور پر ترقی کرے گی۔ 

انہوں نے افغانستان میں سکیورٹی فراہم کرنے میں امریکہ کی نااہلی کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ مختلف ممالک میں بد امنی اور عدم تحفظ کی اصلی وجہ امریکہ ہے ، لہٰذا خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم آپ سے یہی تقاضا کرتے ہیں کہ خطے میں امن و سلامتی کی بحالی کے لئے مسلم ممالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کریں۔

News Code 1907662

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 1 =