10 دسمبر، 2014، 10:42 AM

امریکی سی آئی اے

امریکی سی آئی اے نے تفتیش کے دوران غیر انسانی سلوک کا ارتکاب کیا

امریکی سی آئی اے نے تفتیش کے دوران غیر انسانی سلوک کا ارتکاب کیا

مہر نیوز/10 دسمبر/ 2014 ء : بدنام زما نہ امریکی سی آئی اے کی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ظالمانہ سزاؤں اور انسانیت سوز سلوک کی تفصیلی رپورٹ سینیٹ میں پیش کردی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران گرفتار مشتبہ افراد پر سی آئی اے کی سزائیں غیر قانوننی اور غیر انسانی تھیں جب کہ رپورٹ پر کسی بھی ممکنہ ردعمل کے پیش نظر دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں کی سیکورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہبدنام زما نہ امریکی سی آئی اے کی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ظالمانہ سزاؤں اور انسانیت سوز سلوک کی تفصیلی رپورٹ سینیٹ میں پیش کردی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران گرفتار مشتبہ افراد پر سی آئی اے کی سزائیں غیر قانوننی اور غیر انسانی تھیں جب کہ رپورٹ پر کسی بھی ممکنہ ردعمل کے پیش نظر دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں کی سیکورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی جانب سے سی آئی اے کی ظالمانہ اور دل دہلا دینے والی سزاؤں کی 500 صفحات پر مشتمل رپورٹ امریکی سینیٹ میں پیش کرتے ہوئے سینیٹ پینل انٹیلی جنس کمیٹی کی سربراہ ڈیانے فینسٹین نے کہا ہے کہ سی آئی اے کی جانب سے جو تفتیشی طریقہ اختیار کیا گیا وہ انتہائی ظالمانہ تھا جب کہ ایجنسی امریکہ کو ممکنہ خطروں کے بارے میں قبل ازوقت معلومات دینے میں بھی ناکام رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے نے تفتیشی پروگرام سے عوام، سینیٹ اور کانگریس کو دھوکے میں رکھا جس کا زیادہ تر حصہ دو غیر متعلق کنٹریکٹر سے آپریٹ کرایا گیا، رپورٹ امریکی سی آئی اے کے پروگرام کی 5 سال کی تحقیقات کے بعد ریلیز کی گئی ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران القاعدہ کے گرفتار رہنماؤں اور دیگر قیدیوں کے خلاف سزاؤں اور معلومات پر مشتمل ہے۔

رپورٹ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر باراک اوبامہ کا کہنا تھا کہ سی آئی اے کی خوفناک سزاؤں اور ان کے تفتیشی طریقہ کار سے دنیا بھر میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس پر کوئی دلائل دینے کی بجائے امید کرتے ہیں کہ اس ظالمانہ طریقہ کار کو اب اختیار نہیں کیا جائے گا اور اب یہ ماضی کا حصہ بن گیا ہے تاہم کچھ ری پبلکن سینیٹرز کا کہنا تھا سی آئی اے کے پروگرام سے امریکہ کئی بڑے خطرات سے محفوظ رہا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے خبردار کیا کہ رپورٹ منظر عام پر آنے سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں اور ہمارے شہریوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں جب کہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے ردعمل کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں سمیت دیگر عمارتوں کی سیکورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔

News ID 1845960

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha