7 نومبر، 2026، 5:04 PM

ریپبلکنز کی انتخابی شکست کے بعد ایپسٹین کیس دوبارہ زیربحث آنے کا امکان

ریپبلکنز کی انتخابی شکست کے بعد ایپسٹین کیس دوبارہ زیربحث آنے کا امکان

وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد کانگریس کو جیفری ایپسٹین کیس کی مزید تحقیقات اور دستاویزات منظرعام پر لانے کے مطالبات کا سامنا ہوگا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ویب سائٹ آکسیوس نے بتایا ہے کہ امریکی کانگریس آئندہ ہفتے وسط مدتی انتخابات کے بعد اپنے پہلے اجلاسوں میں جیفری ایپسٹین کیس کے بارے میں مزید شفافیت کے مطالبات کی نئی لہر سے دوچار ہوگی۔ یہ پیش رفت حالیہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی اور اس جماعت کے سرکردہ ارکان کی جانب سے نئی تحقیقات کے وعدوں کے بعد سامنے آ رہی ہے۔

آکسیوس کے مطابق، ریپبلکن جماعت کے مرکزی دھارے کے مخالف رکن کانگریس تھامس میسی قانون سازوں کی پارلیمانی سرگرمیاں بحال ہونے کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس معاملے پر نئی کوششیں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ وہ آئندہ جنوری میں کانگریس سے رخصت ہونے والے ہیں۔

میسی نے ایک پیغام میں اعلان کیا کہ ایوانِ نمائندگان کے اجلاس دوبارہ شروع ہوتے ہی ’’ایپسٹین کیس کی دستاویزات میں شفافیت کے قانون‘‘ کو رائے شماری کے لیے پیش کرنے کی کوشش کامیاب ہوگی اور اس درخواست کی منظوری کے لیے درکار 218 ارکان کے دستخط حاصل کر لیے جائیں گے۔

اس سے قبل ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رو کھنّا، جو میسی کے ساتھ مل کر ان کوششوں کی قیادت کر رہے تھے، کہہ چکے تھے کہ انہیں اس درخواست پر دستخط اور اس کی حمایت کے لیے مطلوبہ تعداد میں ارکان کی یقین دہانیاں مل چکی ہیں۔ تاہم، ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن اسپیکر مائیک جانسن نے ایوان کے اجلاس مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

جیفری ایپسٹین کیس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران کئی مرتبہ سیاسی تنازعے کا موضوع بن چکا ہے اور وسط مدتی انتخابات کی انتخابی مہم میں بھی اسے نمایاں طور پر اٹھایا گیا۔ ڈیموکریٹس کے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد آئندہ مدت میں اس کیس سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے طرزِ عمل کی نئی تحقیقات ہو سکتی ہیں۔

میسی اور کھنّا نے گزشتہ جولائی میں اپنا سابقہ قانونی مسودہ پیش کرنے کے بعد ’’ایپسٹین کیس کی دستاویزات میں شفافیت کا دوسرا قانون‘‘ متعارف کرایا تھا۔ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ سال نومبر میں سابقہ قانون پر دستخط کیے تھے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ اس عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کر چکے تھے۔

مجوزہ قانون کے تحت ریاستی اور مقامی استغاثہ کے حکام کے ساتھ ساتھ متاثرین کو بھی یہ اختیار دیا جائے گا کہ اگر دستاویزات غیر قانونی طور پر چھپائی جائیں یا ان کے حصے حذف کرکے انہیں سنسر کیا جائے تو وہ امریکی اٹارنی جنرل کے خلاف قانونی کارروائی کر سکیں۔

اس کے علاوہ، مجوزہ قانون اٹارنی جنرل کو پابند بنائے گا کہ متاثرین کی درخواست پر مخصوص دستاویزات انہیں کسی قسم کی حذف و ترمیم یا سنسرشپ کے بغیر فراہم کرے۔

آکسیوس نے مزید رپورٹ کیا ہے کہ آئندہ جنوری میں کانگریس کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں آنے کے بعد مطالبات کی یہ لہر تھمنے کا امکان نہیں ہے، خصوصاً اس لیے کہ ڈیموکریٹس نے ایک جارحانہ تشہیری مہم شروع کر رکھی ہے، جس میں وہ ریپبلکنز پر بدعنوان اور بااثر عناصر کی حمایت کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق، ’’ایڈ امپیکٹ‘‘ ڈیٹا بیس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے امیدواروں اور جماعتوں سے باہر سرگرم گروہوں نے گزشتہ یکم ستمبر سے 21 اکتوبر تک ایپسٹین کیس، بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق الزامات پر ٹیلی ویژن اشتہارات کے لیے کم از کم 70 ملین ڈالر خرچ کیے۔

ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رابرٹ گارسیا، جو ایوان نمائندگان کی نگرانی کمیٹی میں اپنی جماعت کے سب سے سینئر رکن ہیں، نے تحقیقات کے لیے چار ترجیحات کا تعین کیا ہے۔ ان کے مطابق، اگر ڈیموکریٹس کو اس کمیٹی کی سربراہی حاصل ہوئی تو ان ترجیحات پر عمل کیا جائے گا، جن میں چوتھی ترجیح ایپسٹین کیس سے متعلق ہے۔

News ID 1942671

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha