23 ستمبر، 2026، 11:59 AM

اسرائیل کے ساتھ پائیدار امن کے لیے کوشش کر رہے ہیں، الجولانی

اسرائیل کے ساتھ پائیدار امن کے لیے کوشش کر رہے ہیں، الجولانی

شام پر قابض الجولانی نے نیویارک میں کہا ہے کہ اپنی شرائط کے تحت وہ اسرائیل کے ساتھ پائیدار امن کے حصول کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

 مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شام پر قابض احمد الشرع نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کے دورے کے موقع پر کہا کہ تل ابیب کے ساتھ براہ راست مذاکرات تقریباً ڈیڑھ سال قبل شروع ہوئے تھے، تاہم اسرائیل کی جانب سے بعض مخصوص وجوہات کی بنا پر پیچھے ہٹنے کے باعث یہ عمل رک گیا۔ اس کے باوجود دمشق ممکنہ نتائج کے حصول کی امید میں اس راستے پر اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے نیویارک میں اٹلانٹک کونسل کی جانب سے منعقدہ ایک مکالمے میں کہا کہ اسرائیل اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے اور اب بھی شام کے ان علاقوں پر قابض ہے جن پر اس نے سابق حکومت کے خاتمے کے بعد قبضہ کیا تھا۔

الجولانی کے مطابق شام نے سفارتی راستے کا انتخاب کیا ہے اور مذاکرات کے ساتھ ساتھ واشنگٹن سمیت دوست ممالک سے مدد حاصل کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا پہلا مرحلہ اس علاقے پر مرکوز تھا جس پر اسرائیل نے 8 دسمبر کے بعد قبضہ کیا تھا، اور اس میں 1974 کی سرحدوں پر واپسی اور ایک سکیورٹی معاہدہ شامل تھا۔ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو شام پائیدار امن اور جولان کے معاملے پر طویل مدتی مذاکرات میں داخل ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول اقوام متحدہ میں 130 سے زائد ممالک کی حمایت کے ساتھ جولان شام کی سرزمین ہے۔

الشرع نے زور دے کر کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ پائیدار امن کے حصول کے لیے کوشش کر رہا ہے، بشرطیکہ شام کے حقوق کی ضمانت دی جائے اور اس کی سرزمین پر قبضہ ختم کیا جائے۔

انہوں نے اسرائیل کے خدشات کا جائزہ لینے اور سنگین و غیر سنگین خدشات میں فرق کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ تنازعات کو روکا جاسکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ کی صورتحال کی بنیاد پر شام کے حوالے سے اسرائیل کی پالیسیوں کا جائزہ لینا ایک غلط راستہ ہے، جو اسرائیلیوں کی سلامتی یقینی بنانے کے بجائے تنازعات اور جنگوں کو ہوا دیتا ہے۔

الشرع نے وضاحت کی کہ شام کی پالیسی ملک کو غیر ملکی فوجی اڈوں سے پاک کرنے پر مبنی ہے۔ مستقبل میں کسی بھی غیر ملکی فوجی موجودگی کے لیے ایک قانونی فریم ورک ضروری ہوگا، جسے پارلیمنٹ منظور کرے اور جو شام کی خودمختاری کے حقوق کی ضمانت دے۔ جولانی نے ساتھ ہی کہا کہ مستقبل قریب میں شام میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے روس کے ساتھ بعض معاملات میں پیش رفت کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں شام میں روسی فوجی اڈوں کی تعداد کم ہوکر دو رہ جائے گی اور انہیں شامی فوج کی تربیت کے مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترک افواج اس سے قبل ایک غیر معمولی صورتحال میں اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ایک کشیدہ علاقے میں داخل ہوئی تھیں، تاہم اب مذاکرات جاری رہنے اور ان کی موجودگی کی قانونی حیثیت طے کیے جانے کے ساتھ شمال مغربی شام میں ترک فوجی اڈوں کی تعداد کم کردی گئی ہے۔

جولانی نے عراق کے تیل کے میدانوں کو شام کی بندرگاہوں سے ملانے والی ایک اسٹریٹجک تیل پائپ لائن کی تعمیر کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔ اس منصوبے کا مقصد تیل کی برآمد کے لیے ایک محفوظ راستہ فراہم کرنا اور تیل کی ترسیل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکنا ہے۔

News ID 1941601

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha