مہر خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بہنام سعیدی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے چند ماہ قبل ایران کے خلاف فوجی جنگ کا آغاز ان اہداف کے حصول کے لیے کیا تھا جو وہ اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ایک مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی تھا، لیکن آج شہدا کے خون، اسلامی مزاحمت کے مجاہدین کی استقامت، عوام کی حمایت اور رہبر انقلاب کی قیادت کے باعث ملک اور نظام کی بنیادیں پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہی ہیں۔
سعیدی نے کہا کہ ایران کے دفاعی اور فوجی اقدامات اسلامی جمہوریہ ایران کی پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی اقدامات کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں بھی دیگر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی محاصرہ شروع کیا ہے اور اس کے اثرات ضرور مرتب ہوئے ہیں، لیکن دوسری جانب امریکی معیشت کو بھی سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔
ایرانی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اس وقت امریکہ کی 70 فیصد آبادی اپنے اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، 60 فیصد امریکی شہری امریکہ کی جنگ کو غیر قانونی سمجھتے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت 30 فیصد سے نیچے آ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ جنگ میں کامیاب نہیں ہوا بلکہ اب ایک دلدل میں پھنس چکا ہے اور اس سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن نے کہا کہ ایک امریکی تجزیہ کار کے مطابق امریکہ ایران کے ساتھ جنگ ہار چکا ہے اور اس نے ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ’’اچھی طرح ہارنے کا فن‘‘ سیکھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے تاریخ رقم کی ہے، کیونکہ ایران پہلا ملک ہے جس نے امریکی بحری جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا، جو ایک جانب امریکہ کی طاقت کی علامت اور دوسری جانب دنیا کے مختلف ممالک کے لیے خوف کی علامت سمجھے جاتے تھے۔
جیرفت سے تعلق رکھنے والے ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب امریکی خود کو سمندروں کا طاقتور ترین فریق سمجھتے تھے۔ دنیا کی تقریباً 90 فیصد تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے اور جو ملک سمندروں پر زیادہ اثر و رسوخ رکھتا ہو، وہ خطے میں اپنی طاقت کا استعمال کر سکتا ہے، لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ امریکی آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی بھی جرأت نہیں رکھتے۔
بہنام سعیدی نے کہا کہ ایران پہلا ملک ہے جس نے امریکی معیشت کو بھی چیلنج کیا اور اگر امریکہ کسی بھی ممکنہ منظرنامے کی منصوبہ بندی کرتا ہے تو ایران اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
آپ کا تبصرہ