دشمن ایران کی سائنسی پیشرفت میں رکاوٹیں ڈالنا چاہتے ہیں، کمانڈر سپاہ پاسداران انقلاب

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے کہا کہ دشمنوں کی طرف سے پہلے سے طے شدہ فسادات کا مقصد ایران کی سائنسی ترقی میں رکاوٹیں ڈالنا تھا۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف جنرل حسین سلامی نے جمعرات کے روز مقدس شہر قم میں فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکورٹی فورسز کی حمایت میں منعقدہ دینی طلباء اور علماء کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔

جنرل سلامی نے کہا کہ دشمن نے پابندیاں لگا کر ایران کی تحقیر، اسے ترقی سے روکنے اور فقیر اور کمزور کرنے کی کوشش کی جبکہ ان کا آخری ہدف یہ ہے کہ ایرانی قوم ان کے سامنے مکمل طور پر جھک جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دشمن ایران کی ترقی میں رکاوٹیں ڈالنا چاہتا ہے اسی لیے انہوں نے یونیورسٹیوں کی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے کی کوشش کی اور اس کا مطلب ملک کی سائنسی ترقی کو روکنا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف نے کہا کہ امریکہ نے ہماری یونیورسٹیوں اور اسکولوں کو بند کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان جگہوں سے سائنس اور علم پروان چڑھ رہا ہے اور ایران عظیم انسانی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔انہوں نے بعض عسکری اور سویلین کامیابیوں جیسے ڈرونز بنانے اور سیٹلائٹ کو مدار میں بھیجنے کا ذکر کیا اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ عالمی استکبار نے اسلامی نظام کو گرانے اور عظیم ایرانی قوم کو دباؤ میں لانے کے لیے اپنی تمام نرم اور نفسیاتی جنگیں بروئے کار لائی ہوئی ہیں لیکن ان کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔

جنرل سلامی نے مزید کہا کہ اگرچہ امریکہ ایک فوجی حملے کے ذریعے صدام کی حکومت کو گرانے میں کامیاب ہو گیا تھا، تاہم انقلاب اور اسلام تیزی کے ساتھ امریکہ سے پہل کرتے ہوئے اسے ایک کونے میں دھکیلنے اور اسے اپنی بیرکوں میں قید کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان تمام سالوں میں دشمنوں کے لئے شکست سخت تھی اور امریکہ کو بے تحاشہ پیسہ خرچ کرنا پڑا جبکہ اسے کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ آج امریکہ زخمی اور ناتوانی کی حالت میں بغیر کسی اثر و رسوخ اور سیاسی طاقت کے حوادث کا نظارہ کر رہا ہے۔ جنرل سلامی نے مزید کہا کہ آج دشمن اپنی تمام تر تزویراتی طاقت، دولت، میڈیا اور سیاسی ساکھ کو میدان میں لے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فتنے اور حالیہ فسادات کے آغاز میں امریکہ اور یورپ نے کھلم کھلا مداخلت نہیں کی تاہم جیسے ہی فتنہ کے شعلے دم توڑ گئے اور اللہ اکبر کی صدائیں شیطانی آوازوں پر غالب آگئیں تو امریکہ، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور سعودی عرب براہ راست میدان میں اتر آئے اور فتنے کو مصنوعی تنفس دینے کی کوشش کی لیکن یہ بے سود رہا اور آج انہیں واضح ناکامی کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن نے ایرانی نوجوانوں کو دھوکہ دینے اور فسادات کی پشت پناہی کر کے انہیں اسلامی نظام کے خلاف کرنے کی کوشش کی لیکن جلد ہی انہیں احساس ہو گیا کہ نوجوانوں کو ان کے ذریعے بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔

انہوں نےکہا کہ ایرانی قوم دشمنوں کو ایک بہت بڑا دھچکا دے گی اور ان کی نفسیاتی جنگ کو ناکام بنائے گی جس نے ان کے اسلامی عقائد کو نشانہ بنایا ہے جیسا کہ وہ اب تک کرتے رہے ہیں۔

سپاہ پاسداران کے کمانڈر انچیف نے کہا کہ ہم دشمنوں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں بصورت دیگر ان انہیں جوابی کاروائی کا سامنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آل سعود کو اپنے شیشے کے محلات میں پناہ لینی چاہیے اور ایرانی قوم کے اعصاب پر سوار ہونے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ آل سعود بہت کمزور ہیں اور آج وہ صہیونی حکومت پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں جو مضمحل ہو کر بکھر رہی ہے۔
 

News Code 1912733

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha