ایرانی قوم نے ہمیشہ کی طرح ہوشیاری کا ثبوت دیا/ ایرانی عوام ہنگامہ آرائیوں اور بلووں کے مخالف ہیں

پاکستان کے شہر کراچی میں تعینات ایران کے قونصل جنرل نے گزشتہ روز پاکستانی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کی۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے شہر کراچی میں قائم ایرانی قونصلیٹ جنرل کے سربراہ حسین نوریان نے پاکستانی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کی اور پاک ایران دو طرفہ تعلقات سمیت ایران کی موجودہ صورتحال اور حالیہ ہنگامہ آرائیوں پر روشنی ڈالی۔

ایرانی قونصل جنرل نے ازبکستان میں شہنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی سمٹ، قزاقستان کے سی آئی سی اے اجلاس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سائڈ لائن پر ہونے والی ایرانی صدر اور پاکستان کے وزیر اعظم کی ملاقات کا حوالہ دیا اور دونوں ملکوں کے تعلقات کو اطمینان بخش اور ایک اچھی سطح پر قرار دیا۔

حسین نوریان نے پاک ایران اقتصادی تعلقات کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ آئندہ ہفتے ایک ایرانی تجارتی وفد کراچی اور لاہور کا دورہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفد پاکستان کے فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اور انڈسٹری کے صدر اور اراکین کے ساتھ ملاقات میں ایران اور پاکستان کے درمیان مشترکہ تجارتی کونسل کے قیام کے حوالے سے مفاہمت کی دو یادداشتوں پر دستخط کرے گا، اسی طرح تجارتی تنازعات کے حل اور ثالثی کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔

حسین نوریان نے ایران کی حالیہ صورتحال کے متعلق صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک نوجوان لڑکی کی موت پر ہم سب کو گہرا صدمہ ہوا اور رہبر معظم انقلاب سمیت ملک کے تینوں اداروں کے سربراہان نے اس سانحے پر تعزیتی پیغامات دیئے جبکہ صدر مملکت نے وزیر داخلہ کو واقعے کی شفاف تحقیقات پر مامور کیا اور پارلیمنٹ نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی۔ ساتھ ہی فرانزک کے شعبے میں 19 ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل کمیشن نے اس کیس کی طبی جانچ پڑتال کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اس خاتون ایرانی شہری کی موت سابقہ دل کی بیماری کی وجہ سے واقع ہوئی تھی۔

ایرانی قونصل جنرل نے مزید کہا کہ تاہم ضد انقلاب گروہ اور بعض بیرونی طاقتوں نے اس ایرانی شہری کی موت کو اس بنا پر کہ وہ ایک کرد نوجوان خاتون اور اہل سنت تھی، نوجوانوں کو اکسانے کا ذریعہ قرار دیا اور صنفیت، قومیت اور فرقہ واریت پر توجہ مرکوز کی۔

حسین نوریان نے کہا کہ ایران میں امریکہ اور مغرب کی ظالمانہ پابندیوں کے سبب معیشت کے حوالے سے مہنگائی اور افراط زر کے مسائل ہیں، اگرچہ عوام کے ایک طبقے کو موجودہ معاشی صورتحال پر اعتراض ہے تاہم معاشی صورتحال کے کنڑول کے حوالے سے عوام کی تعمیری تنقید، سڑکوں کے ہنگاموں اور بلووں سے بنیادی طور پر مختلف ہے اور ایرانی عوام ہنگامہ آرائیوں اور بلووں کے مخالف ہیں۔

نوریان نے مزید کہا کہ حالیہ واقعات میں منصوبہ یہ تھا کہ اسلامی نظام، حکومت اور نوجوان نسل کے مابین فاصلہ پیدا کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ہمیشہ کی طرح ہوشیاری کا ثبوت دیا اور ہمارے باشعور نوجوانوں نے قوم کے خلاف اس شیطانی منصوبے کو ناکام بنا دیا جبکہ ہمیں اور ہمارے جوانوں کو مخالف میڈیا کے پروپیگنڈا سے ہوشیار رہنا ہوگا۔

News Code 1912761

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha