عزاداری و زیارت کی رقم سیلاب زدگان کی مدد پر خرچ کرنا بہتر عمل ہے، علامہ امین شہیدی

پاکستانی معروف عالم دین نےکہاکہ اربعینِ حسینی پر جانے والے پاکستانیوں کی تعداد شاید ایک لاکھ کے قریب ہو لیکن سیلاب متاثرین کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ اگر عزاداری اور زیارت کے لئے مخصوص رقم سیلاب زدگان کی مدد پر خرچ کی جائے تو اس کا ثواب کم نہیں ہوگا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے معروف عالم دین اور امت واحدہ کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے سیلاب کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کو خدا کا عذاب قرار دے کر حکمرانوں کی عدم تدبیر اور نااہلی سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ اگر "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" سے پہلو تہی کرتے ہوئے غلط افراد کو بطور حاکم منتخب کیا جائے تو عدل کا نظام عدم توازن کا شکار ہوتا ہے اور خود عوام اپنے منتخب کردہ حکمرانوں کے ظلم اور جرائم میں برابر کی شریک ہوتی ہے. یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی قوم پر ایسے حکمران مسلط ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب کی سنگین صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے پوری قوم کو سیلاب زدگان کی ضروریات اور بحالی پر کام کرنا چاہیے۔ ماہِ صفر کا آغاز ہونے کو ہے، اربعینِ حسینی پر جانے والے پاکستانیوں کی تعداد شاید ایک لاکھ کے قریب ہو لیکن سیلاب متاثرین کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ اگر عزاداری اور زیارت کے لئے مخصوص رقم سیلاب زدگان کی مدد پر خرچ کی جائے تو اس کا ثواب کم نہیں ہوگا۔ درحقیقت یہ امام حسین علیہ السلام کو راضی کرنے کا بہترین موقع ہے۔

News Code 1912168

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha