3 نومبر، 2026، 1:28 PM

اصفہان، چار پولیس اہلکاروں کی شہادت کے مقدمے میں دو مرکزی ملزمان کو پھانسی

اصفہان، چار پولیس اہلکاروں کی شہادت کے مقدمے میں دو مرکزی ملزمان کو پھانسی

ایرانی عدلیہ کے مطابق، گزشتہ سال اصفہان میں ہونے والے واقعات کے دوران چار پولیس اہلکاروں کی شہادت میں ملوث دو ملزمان کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اصفہان میں گزشتہ سال کے ہنگاموں اور فسادات میں چار پولیس اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ اس واقعے میں ملوث دو مرکزی مسلح ملزمان امیرحسین ابراہیمی اور امیرحسین ملکی کو آج صبح پھانسی دے دی گئی۔

ایرانی عدلیہ کے بیان کے مطابق، مذکورہ واقعے میں ملوث افراد آتشیں اسلحے، تلواروں، چاقوؤں، کلہاڑیوں اور دیگر ہتھیاروں سے لیس تھے۔ انہوں نے سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے علاوہ سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں پر بھی حملے کیے۔ اس دوران بعض عمارتوں، پولیس اسٹیشن اور عوامی مقامات کو بھی آگ لگائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق، امیرحسین ابراہیمی واقعے کے روز علی خانی اسکوائر میں موجود تھا اور اس نے چہرے اور سر کو سرخ رومال سے ڈھانپ رکھا تھا۔ دیگر ملزمان کے بیانات کے مطابق، وہ اپنے ساتھ ایک بڑی تلوار بھی رکھتا تھا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے ساتھ سکیورٹی اہلکاروں پر تشدد میں بھی ملوث تھا۔ واقعے کے بعد وہ فرار ہو کر اپنے ایک رشتہ دار کے گھر چھپ گیا تھا، جہاں سے اسے گرفتار کر لیا گیا۔

اسی طرح امیرحسین ملکی، جو دائی چی کے نام سے معروف تھا، بھی واقعے کے مقام پر موجود تھا اور ہر وقت اپنے ساتھ تیز دھار ہتھیار رکھتا تھا۔ عدالتی دستاویزات، موبائل فون کی لوکیشن اور دیگر ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر اسے بھی پولیس اہلکاروں کی شہادت میں ملوث قرار دیا گیا۔

ایرانی عدلیہ کے مطابق، مقدمے میں گرفتار ملزمان میں سے متعدد نے ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیے، جبکہ 20 ملزمان نے جائے وقوعہ پر واقعے کی منظرکشی کے دوران اپنے کردار اور پیش آنے والے حالات کی تفصیلات بھی بیان کیں۔

عدالتی کارروائی کے بعد دونوں ملزمان کو محاربہ اور فساد فی الارض کے الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ملزمان کی جانب سے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کیے جانے کے بعد فیصلوں کا دوبارہ جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں سزائے موت برقرار رکھی گئی اور آج صبح ان پر عمل درآمد کر دیا گیا۔

News ID 1942574

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha