21 اکتوبر، 2026، 2:59 PM

یمن کا جنگ کے خاتمے کے لیے شیخ الازہر کی اپیل کا خیرمقدم

یمن کا جنگ کے خاتمے کے لیے شیخ الازہر کی اپیل کا خیرمقدم

یمن کی قومی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ محمد عبدالسلام نے جنگ کے خاتمے کے لیے شیخ الازہر احمد الطیب کی اپیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے 2015 میں یمن کے خلاف جنگ شروع کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی قومی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ محمد عبدالسلام نے جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب کی جانب سے خطے میں جنگوں اور تنازعات کے خاتمے کی اپیل کا خیرمقدم کیا ہے۔

محمد عبدالسلام نے شیخ الازہر کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ موجودہ حالات میں یمن اور سعودی عرب کے درمیان جاری معاملات خطے کے اہم ترین مسائل میں شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 2015 سے یمن کے خلاف سعودی عرب کی فوجی جارحیت کی حقیقت کو واضح طور پر عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یمنی عوام کبھی سعودی عرب کے لیے خطرہ نہیں بنے اور نہ ہی انہوں نے اس ملک کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ ان کے مطابق، مارچ 2015 سے پہلے یمن کے اختلافات داخلی نوعیت کے تھے اور انہیں بیرونی فوجی مداخلت کے بغیر مذاکرات اور باہمی مفاہمت کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا۔

محمد عبدالسلام نے بتایا کہ 2015 کے اوائل میں یمن کے انقلاب کے رہنما سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے انہیں سعودی عرب جانے کی ذمہ داری سونپی تھی، تاکہ وہ سعودی قیادت کو اطمینان بخش پیغام پہنچائیں، یمن کی داخلی صورتِ حال کی وضاحت کریں اور یہ باور کرائیں کہ یمن کا انقلاب سعودی عرب کے لیے کوئی چیلنج نہیں ہے۔ اس وقت یمنی فریق سیاسی اختلافات کو مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ پیغام سعودی عرب کے سابق فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے دور میں پہنچایا گیا تھا۔ شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد وہ یمن واپس آگئے، تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں کی بحالی کی امید برقرار رہے، لیکن شاہ سلمان کے اقتدار میں آنے کے بعد حالات بتدریج فوجی کشیدگی کی جانب بڑھ گئے۔

یمن کی قومی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ سعودی عرب کی فوجی مداخلت کا آغاز 26 مارچ 2015 کو صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی حملوں سے ہوا۔ اس فوجی کارروائی کا کوئی جواز نہیں تھا، کیونکہ بحران کو سیاسی ذرائع سے حل کرنے کے بجائے فوجی مداخلت نے یمن کی داخلی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ کر دیا اور تنازعے کو وسعت دی۔

محمد عبدالسلام نے مزید کہا کہ سعودی فوجی مداخلت کے دوران قتل عام، جرائم اور سخت محاصرے جیسے اقدامات کیے گئے، جن کے نتیجے میں دسیوں ہزار بے گناہ شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ محاصرے اور بنیادی ضروریات سے محرومی کے اثرات کے باعث بھی بڑی تعداد میں لوگوں کی اموات ہوئیں۔

انہوں نے سعودی عرب کی جنگ کو بے نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے انسانی اور سیاسی نتائج اب بھی برقرار ہیں۔ سعودی عرب فوجی طاقت کے ذریعے تنازعے کو فیصلہ کن طور پر ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور نہ ہی یمنی عوام پر مسلط کی گئی تباہی کے نتائج سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

محمد عبدالسلام نے خطے میں جنگوں کے خاتمے کے لیے شیخ الازہر کی اپیل کا ایک بار پھر خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ امن کی کوششیں لڑائی روکنے، عوام کی مشکلات ختم کرنے اور انصاف و انسانی وقار کی بنیاد پر مذاکرات اور مفاہمت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

دوسری جانب، مصر کے دینی ادارے جامعہ الازہر نے ایک بیان میں تجویز پیش کی کہ اسلامی اور عرب ممالک کے نمائندوں، علما، دانش وروں اور خیرخواہوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو ثالثی کے ذریعے اختلافات اور بحرانوں کے حل، جاری تنازعات کے خاتمے، فریقین کے نقطۂ نظر میں قربت پیدا کرنے اور امتِ مسلمہ کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے کوششیں کرے، تاکہ مزید خونریزی کو روکا جاسکے۔

الازہر نے اپنے بیان میں کہا کہ اس ادارے کے سربراہ شیخ احمد الطیب اس کمیٹی کی سرگرمیوں میں تعاون کے لیے اپنی تمام تر کوششیں صرف کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ تمام فریقین اختلافات سے نکلنے اور ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنے کے لیے ضروری صلاحیت اور حکمت کا مظاہرہ کریں گے، تاکہ خونریزی روکی جا سکے اور بے گناہ انسانوں کی جانیں محفوظ بنائی جاسکیں۔

News ID 1942266

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha