مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بلومبرگ نیوز نیٹ ورک نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وزارتِ جنگ کے اعلیٰ حکام جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر جارحیت سے متعلق داخلی رپورٹ کی اشاعت کو کم از کم امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد تک ملتوی کرنا چاہتے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق، بعض افراد نے مشاورت کی خفیہ نوعیت اور عوامی سطح پر بیان دینے کی اجازت نہ ہونے کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے مشیروں نے پینٹاگون کے بعض ملازمین کو اس منصوبے سے آگاہ کیا ہے۔
یاد رہے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات 3 نومبر 2026 کو منعقد ہوں گے۔
بلومبرگ کی یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میناب کے اسکول پر حملہ اور ہدف کی شناخت کا طریقۂ کار، ایران کے خلاف جنگ میں امریکی فوجی کاروائیوں سے متعلق متنازع موضوعات میں شامل ہو چکا ہے۔
واضح رہے بلومبرگ نے اس سے قبل اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا تھا کہ پرانی معلومات، اسکول کے مقام سے متعلق اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ نہ کرنا اور اہداف کی جانچ پڑتال کے عمل میں کمزوریاں اس حملے کے وقوع پذیر ہونے کے اہم عوامل میں شامل تھیں۔
اس میڈیا ادارے نے یہ بھی کہا تھا کہ حملے کے ابتدائی گھنٹوں ہی میں پینٹاگون کے بعض ملازمین کو امریکہ کے ممکنہ طور پر اس حملے کا ذمہ دار ہونے کا علم ہو گیا تھا۔ تاہم، فوجی تحقیقات کی حتمی رپورٹ اب تک عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئی ہے۔
واضح رہے امریکی صدر اس سے قبل اس حملے میں واشنگٹن کی ذمہ داری کے حوالے سے بیانات دے چکے ہیں، لیکن امریکی حکومت نے اب تک باضابطہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
یاد رہے میناب کے اسکول پر حملہ 28 فروری 2026 کو ہوا تھا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں طلبہ اور عام شہری شہید ہوئے۔ اس حملے کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں میڈیا رپورٹس اور بین الاقوامی تحقیقات نے امریکی فوجی معلومات کی درستگی اور عام شہریوں کے تحفظ سے متعلق تقاضوں کی پابندی کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔
آپ کا تبصرہ