14 اکتوبر، 2026، 8:53 PM

ڈیزل کی قلت 2027ء تک جاری رہ سکتی ہے؛ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا انتباہ

ڈیزل کی قلت 2027ء تک جاری رہ سکتی ہے؛ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا انتباہ

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ ڈیزل کی رسد میں کمی 2027ء تک جاری رہ سکتی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے تیل کی منڈی سے متعلق اپنی ماہانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ڈیزل کی ریفائننگ سے حاصل ہونے والا منافع، یعنی اس ایندھن اور خام تیل کی قیمت کے درمیان فرق، ستمبر میں بڑھ کر تقریباً 95 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ گیا۔ ایران سے متعلق جنگ کے دوران حملوں کے نتیجے میں تیل صاف کرنے کی صلاحیت میں کمی آئی، جس سے ڈیزل کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ایجنسی نے کہا ہے کہ ڈیزل کی منڈی اب بھی شدید دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ رسد میں طویل عرصے سے جاری رکاوٹوں کے باعث، موسمِ خزاں میں ریفائنریوں کی مرمت اور موسمِ سرما میں طلب کے عروج سے پہلے، موسمی رجحان کے برعکس ذخائر استعمال کیے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کو توقع ہے کہ رواں عیسوی سال کے اختتام تک دنیا بھر کی ریفائنریوں کی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور ذخائر دوبارہ جمع کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ تاہم، پیداوار میں اضافہ پورے سال کے دوران جمع ہونے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کے تحت، اس ایجنسی کے رکن ممالک نے تزویراتی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل تیل اور ڈیزل جاری کرنے کے عمل میں ہم آہنگی پیدا کی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سیاسی اور اقتصادی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ڈیزل صنعت، زراعت اور سڑکوں کے ذریعے نقل و حمل کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ ستمبر میں مغربی ایشیاء اور روس سے ڈیزل کی مجموعی برآمدات میں روزانہ 13 لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔

اس ادارے کی پیش گوئی کے مطابق، 2026ء میں عالمی سطح پر تیل کی طلب میں روزانہ 26 لاکھ بیرل کی کمی آئے گی، جس میں سے 25 فیصد کمی ڈیزل کی طلب سے متعلق ہوگی۔

صنعتی ممالک کو مشورے فراہم کرنے والے اس ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں کا ریکارڈ سطح تک پہنچنا پہلے ہی معیشت پر وسیع اثرات مرتب کر چکا ہے۔ ان اثرات میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، عوام کی حقیقی آمدنی پر منفی اثرات، اقتصادی سرگرمیوں میں رکاوٹ اور مہنگائی میں اضافہ شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں عیسوی سال عالمی سطح پر تیل کی رسد میں روزانہ 58 لاکھ بیرل کی کمی آئے گی، تاہم 2027ء میں یہ رجحان الٹ جائے گا اور رسد میں روزانہ 77 لاکھ بیرل کے اضافے کے ساتھ عالمی تیل کی منڈی ایک بار پھر رسد کی اضافی مقدار کا سامنا کرے گی۔

News ID 1942119

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha