مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنرل علی عظمایی ایک گفتگو میں کہا کہ آج ہم اللہ تعالیٰ کی عنایت اور سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے بحری مجاہدین کی بدولت دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ امریکی فوج ایندھن کے اسمگلر میں تبدیل ہو چکی ہے اور اس کا بحری بیڑا بے اثر ہو گیا ہے، کیونکہ وہ کمزور اور قابلِ حملہ ہے اور ایران کے قریب آنے کی ہمت نہیں رکھتا۔
سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کے کمانڈر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہم نے اپنی جنگی حکمتِ عملی کی کمزوریوں کو طاقت میں تبدیل کر دیا ہے، کہا کہ اگر امریکی یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے یا بند، تو انہیں میدان میں آنا چاہیے، تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اس پر کنٹرول کس کا ہے۔
جنرل عظمایی نے کہا کہ آج امریکہ اپنے سات بحری بیڑوں کے ساتھ ایندھن کا اسمگلر بن چکا ہے۔ امریکہ کا 13 ارب ڈالر مالیت کا بحری جہاز بے اثر ہو گیا ہے اور آبنائے ہرمز سے 700 کلومیٹر دور جا چکا ہے، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی ہمت نہیں ہے۔
سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کے کمانڈر نے مزید کہا کہ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ امریکی بحری جہاز آبنائے ہرمز کے دہانے کے قریب آئیں، تاکہ ہم انہیں غرق کر دیں۔ ہم اس واقعے کے رونما ہونے کے لیے لمحہ بہ لمحہ منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو سزا دینے کی صرف ایک دو طریقے دکھائے ہیں۔ امریکیوں اور خطے میں ان کے ساتھیوں نے ذرائعِ ابلاغ میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے، تاکہ دنیا کے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو سزا دی جا رہی ہے۔ اسی لیے ہم نے خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو سزا دینے کے دو طریقے دکھائے ہیں۔
جنرل عظمایی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس، سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کے کنٹرول میں ہیں، جبکہ بحیرۂ عمان کو اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج میں ہمارے ساتھی کنٹرول کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بحری ناکہ بندی بحیرۂ عمان سے باہر، بحیرۂ عرب میں ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ آبنائے ہرمز کو جدید نظام کے ذریعے کنٹرول کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران آنے اور ایران سے روانہ ہونے والے جہازوں کی تعداد کے مطابق، مقررہ ضابطوں اور سلسلۂ مراتب کے تحت اجازت نامے جاری کیے جاتے ہیں اور یہ جہاز ایرانی آبی گزرگاہ سے آمدورفت کرتے ہیں۔
سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کے کمانڈر نے مزید کہا کہ ہمارے میدان میں موجود معزز عوام جان لیں کہ سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے بحری مجاہدین بھی میدان میں موجود ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں؛ اس معاملے میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جاتی۔
جنرل عظمایی نے کہا کہ ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر اقتصادی، سیاسی اور فوجی سلامتی قائم کر سکتے ہیں اور ہمیں امریکیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ خطے کے عوام کی دولت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج امریکی فوج ذلیل ہو چکی ہے اور بدحالی و بے بسی کا شکار ہے۔
جنرل عظمایی نے مزید کہا کہ آج ہماری صورتِ حال تیسری مسلط کردہ جنگ کے ابتدائی دنوں کے مقابلے میں بہتر ہے اور آج ہمارے مجاہدین گزشتہ روز کے مقابلے میں زیادہ تیار ہیں۔
آپ کا تبصرہ