مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی جریدے نیویارکر نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ایک خفیہ گفتگو کے دوران 2017 میں محمد بن سلمان کے اپنے کزن محمد بن نایف کو ولی عہدی سے ہٹانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں خطے کے ایک سابق انٹیلی جنس اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کشنر نے بن سلمان کو پیغام دیا تھا کہ امریکی حکومت میں انٹیلی جنس اداروں کے علاوہ سب لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں۔ اس پیغام کو محمد بن نایف کے خلاف کارروائی کے لیے واشنگٹن کی جانب سے بن سلمان کو گرین سگنل کے طور پر دیکھا گیا۔
اس وقت محمد بن نایف سعودی عرب کے ولی عہد تھے اور امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے قدیم ترین شراکت داروں میں شمار ہوتے تھے، جبکہ محمد بن سلمان ولی عہدی کی ترتیب میں دوسرے نمبر پر تھے۔
رپورٹ کے مطابق، اس وقت ٹرمپ اور امریکی انٹیلی جنس اداروں کے درمیان 2016 کے انتخابات سے متعلق تحقیقات کے معاملے پر شدید اختلافات تھے اور ٹرمپ بن سلمان کی حمایت کے ذریعے انٹیلی جنس ادارے کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔
چند ماہ بعد، 2017 ہی میں محمد بن نایف کو ولی عہدی سے ہٹا دیا گیا اور محمد بن سلمان نے ان کی جگہ لے لی۔ محمد بن نایف کو گرفتار کرلیا گیا اور وہ 2020 سے نظربند ہیں۔
آپ کا تبصرہ