3 اپریل، 2025، 9:17 AM

ٹرمپ کی تجارتی پالیسی، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شدید تناؤ

ٹرمپ کی تجارتی پالیسی، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شدید تناؤ

امریکی اعلی عہدیدار نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی مصنوعات پر ڈیوٹی عائد کرنے کے بعد ردعمل میں کہا ہے کہ تل ابیب امریکی مالکانہ حقوق کو چوری کرنے میں ملوث ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی مصنوعات پر ڈیوٹی عائد کرنے کے فیصلے کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک مخصوصا واشنگٹن کے دوست ممالک سے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ اپنے فیصلے کے دفاع میں دوسرے ممالک میں مختلف نوعیت کے الزامات عائد کررہی ہے۔

اسی سلسلے میں وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ اسرائیل نے طویل عرصے سے امریکی دواسازی کی صنعت میں کئی مالکانہ حقوق چوری کیے ہیں۔ یہ سلسلہ مزید جاری نہیں رہ سکتا۔

اہلکار نے مزید کہا کہ اسرائیل کئی سالوں سے اپنی تجارتی محصولات میں کمی کرنے کا وعدہ کر رہا ہے اور امریکہ گذشتہ 50 سال سے اس اقدام کا انتظار کررہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کسی بھی ملک کی جوابی کارروائی کا سخت جواب دیں گے تاکہ اقتصادی نظام کو کمزور ہونے سے روکا جاسکے۔

وائٹ ہاؤس کے مذکورہ اہلکار نے انکشاف کیا کہ تقریبا 60 ممالک بدترین تجارتی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔

دوسری جانب، امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ 5 اپریل سے 10 فیصد ڈیوٹی نافذ ہوگی جبکہ 9 اپریل سے مزید ڈیوٹی لاگو کی جائے گی۔ اسی تناظر میں اسرائیلی ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ نے اسرائیلی درآمدات پر 17 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

News ID 1931577

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha

    تبصرے

    • علی محمد محمدی PK 10:05 - 2025/04/04
      0 0
      اسرائیلی جس دن اس حقیقت کو سمجھیں گے کہ امریکی اپنے مذموم عزائم کو عملی جامعہ پہنانے میں کامیاب ہونگے اسی دن اسرائیل کے خاتمے کے لیے اقدامات میں دوسروں کا ساتھ دینے والے ہیں