ایرانی حکومت کی غیر قانونی اور ظالمانہ پابندیوں کے خاتمہ کے سلسلے میں تلاش جاری

ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے اپنی حکومت کی 100 دنوں کی کارکردگی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے لئے عوام کی صحت و سلامتی اوران کی جان کی حفاظت اہمیت کی حامل ہے اور اسی اہمیت کے پیش نظر ہم نے کورونا ویکسین کی فراہمی اور پیداوار کے سلسلے میں ٹھوس اقدام انجام دیئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے ٹی وی چينل ایک پر اپنی حکومت کی 100 دنوں کی کارکردگی کے بارے میں گفتگو کا آغاز کردیا ہے۔ صدر ابراہیم رئيسی نے حکومت کی 100 دنوں کی کاردگی کے بارے میں قبولیت پر نمبر دینے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نمبر دینا عوام کا کام ہے ، ایرانی عوام منصف ہیں اور ان کا فیصلہ حق بجانب ہوگا ۔ صدر رئیسی نے گذشتہ 100 دنوں میں کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں حکومتی اقدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے لئے عوام کی صحت و سلامتی اوران کی جان کی حفاظت اہمیت کی حامل ہے اور اسی اہمیت کے پیش نظر ہم نے کورونا ویکسین کی فراہمی اور پیداوار کے سلسلے میں ٹھوس اقدامات انجام دیئے جس کے نتیجے میں آج کورونا وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد کمترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ صدر رئیسی نے کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں عوام کے تعاون اور وزارت صحت کے اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ 100 ملین سے زائد ویکسین کے ڈوز لگا دیئے گئے ہیں ،جبکہ بعض لوگوں کو ویکسن کی تیسری ڈوز بھی لگائي جارہی ہے۔ صدر رئیسی نے کہا کہ مدارس اور یونیورسٹیاں کھل رہی ہیں ، کار و بار بھی کھل گئے ہیں ، بہر صورت عوام کوطبی دستورات کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ ویکسین کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح تھی جسے انجام دیدیا گيا ہے آج ہمیں ویکسین کی کمی کا سامنا نہیں بلکہ آج ہم ویکسین لگوانے والے کی تلاش میں ہیں۔

صدر رئیسی نے اقتصادی اور معاشی صورتحال کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے مہنگائي کو کنٹرول کرنے کے لئے مرکزی بینک سے قرضہ لینا بند کردیا ہے۔ کورونا وائرس کے کنٹرول کے بعد مہنگائی کا کنٹرول حکومت کی دوسری ترجیح ہے۔ معاشی مسئلہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ہم نے سخت شرائط میں حکومت کو ہاتھ میں لیا ، بنیادی اجناس کے بارے میں تشویش تھی لیکن آج ہم عوام سے کہہ سکتے ہیں کہ ایران کے انباروں میں بنیادی اجناس قابل قبول حد تک موجود ہیں اور ہمیں اس سلسلے میں کوئی تشویش نہیں ہے۔ صدررئیسی نے کہا کہ ہمیں ہر ایسے اقدام پر حساس ہونا چاہیے جو مہنگائی کا سبب بنتا ہو، یہی وجہ ہے کہ ہم نے مرکزی بینک سے قرضہ لینا بند کردیا ہے۔ ہمیں حکومت کے قرضہ کو ادا کرنے کے لئے ایسے طریقوں سے استفادہ کرنا چاہیے جو مہنگائی کا موجب نہ ہوں۔

صدر رئیسی نے عالمی سطح پر تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران تمام ممالک کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایران کے اقتصادی ، تجارتی اور سیاسی تعلقات خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ایران کو علاقائی تنظیموں اکو اور شانگہائی کی ظرفیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد ہیں ایران اقتصادی پابندیوں کے باوجود اپنے اہداف کی سمت گامزن ہے۔ ہم ظآلمانہ اور غیر قانونی اقتصادی پابندیوں کے خاتمہ کے سلسلے میں تلاش و کوشش کررہے ہیں اس کے باوجود ہم اپنے اقتصاد کو مذاکرات کے ساتھ منسلک نہیں کریں گے۔

News Code 1909059

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 6 =