ایران کو سعودی عرب کی ضرورت نہیں/سعودی پالیسیاں اسلام کے خلاف

اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ آملی لاریجانی نے خطے میں سعودی عرب کی غیر اسلامی ، غیر انسانی اور غیر اخلاقی حرکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی امریکہ کو ضرورت ہوگی لیکن ایران کو سعودیوں اور امریکی نوکروں کی کوئی ضرورت نہیں ہےآل سعود خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے جاسوس اور جانشین ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ کے رابطہ عامہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ صادق آملی لاریجانی نے خطے میں سعودی عرب کی غیر اسلامی ، غیر انسانی اور غیر اخلاقی حرکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی امریکہ کو ضرورت ہوگی لیکن ایران کو سعودیوں اور امریکی نوکروں کی کوئی ضرورت نہیں ہےآل سعود خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے جاسوس، نوکر اور جانشین ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عالم اسلام آج یمن، بحرین، شام اور عراق میں سعودی عرب کی دہشت گردانہ اور اسلام مخالف پالیسیوں سے تنگ آچکا ہے۔ آیت اللہ آملی لاریجانی نے کہا کہ ظلم و بربریت میں سعودی حکومت نے اسرائیل کی غاصب اور ظالم و جابر حکومت کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ سعودی عرب علاقہ میں امریکہ اور اسرائیل کے اسلام مخالف نقشہ راہ کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین اور بیت المقدس سے عالم اسلام کی توجہ ہٹانے کے لئے سعودی عرب نے امریکہ اور اسرائیل کے اشاروں پر دہشت گرد گروہوں کو تشکیل دیکر شام میں نام نہاد جہاد کے لئے روانہ کیا  جنھوں نے شام اور عراق میں مسلمانوں کے بےدردی کے ساتھ سرقلم کئے اور شامی حکومت کو اسرائیل کے خلاف  کمزورکرنے کی ناپاک سازش کی۔

انھوں نے کہا کا شام واحد عرب ملک ہے جو تن تنہا اسرائیل کے خلاف ثابت قدم اور پائداری کا مظاہرہ کررہا ہے، سعودی عرب کی عالم اسلام کے خلاف خیانت تاریخ میں ثبت و ضبط ہوجائے گی۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اور اس سے وابستہ دہشت گرد تنظیمیں داعش اور القاعدہ ، اسلام اور مسلمانوں کی نمائندہ نہیں بلکہ سعودی عرب اور اس سے منسلک دہشت گرد تنظیمیں بڑے شیطان امریکہ کی نمائندہ ہیں اور خطے میں امریکی اہداف کی سمت گامزن ہیں۔

آیت اللہ آملی لاریجانی نے تہران میں سعودی عرب کے سفارتخانہ پر حملے کو غلط اقدام قراردیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ کے بارے میں تحقیق کی جاررہی ہے اور اس میں خود سعودی اہلکاروں کی شرارت اور عداوت  کو بھی مد نظر رکھا جائےگا۔

News Code 1860832

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha