سعودی عرب اور اسرائیل کا باہمی رابطہ اور باہمی تعاون اب آشکار ہوگیا

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ فلسطین پر اسرائيلیوں کا غاصبانہ قبضہ ہے فلسطن عالم اسلام کا اصلی مسئلہ ہے اسرائيل اسلامی مقدسات کی توہین اور بےحرمتی کررہا ہے ۔ سعودی عرب عالم اسلام کے مسائل کو حل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے لیکن اب اس کا منافقانہ اور ظالمانہ چہرہ عالم اسلام کے سامنے نمایاں ہوگيا ہے سعودی عرب اور اسرائیل کا باہمی رابطہ اور تعاون پہلے خفیہ لیکن اب آشکار ہوگیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے العہد کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے اسلام کے عظيم اور مجاہد کمانڈ حاج اسماعیل زہری کی برسی کے موقع پر لبنانی عوام اور عالم عرب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین پر اسرائيلیون کا غاصبانہ قبضہ ایک اہم مسئلہ ہے فلسطین عالم اسلام کا اصلی مسئلہ ہے اسرائيلی اسلامی مقدسات کی توہین اور بےحرمتی کررہا ہے اور یہ مسئلہ ایک عادی مسئلہ بن گیا اوریہ مسئلہ عرب لیگ کے حالیہ سربراہی اجلاس کا ایک موضوع بھی تھا۔ سعودی عرب عالم اسلام کے مسائل کو حل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے لیکن آج سعودی عرب کا منافقانہ اور ظالمانہ چہرہ عالم اسلام کے سامنے نمایاں ہوگيا ہے سعودی عرب اور اسرائیل کا باہمی رابطہ اور تعاون مسلمانوں کے سامنے آشکار ہوگیا ہے۔

سید حسن نصر اللہ نے حاج اسماعیل زہری المعروف ابو خلیل کے دلیرانہ اور شجاعانہ اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے خلاف 33 روزہ جنگ میں دیگر کمانڈروں کی طرح ابوخلیل نے بھی اہم نقش ایفا کیا اور اسرائیلی طاقت کے طلسم کو توڑنے میں حزب اللہ کے تمام کمانڈروں نے بنیادی اور اساسی کردار ادا کیا اس میں ابو خلیل کا بھی اہم نقش ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ حاج اسماعیل زہری تمام شرائط میں مشغول اور مصروف رہتے تھےوہ صابر، متواضع، مخلص اور پاک انسان تھے جن کا ہر قدم اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی کے لئے تھا اور حزب اللہ کے پاس ایسے مجاہد اور بہادر کمانڈروں کی کمی نہیں ہے اور ایسے ہی مجاہد حزب اللہ کی کامیابی اور سرافرازی کا باعث ہیں۔

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ہم ایسے علاقہ میں رہتے ہیں جہاں امت، ملک، عرب لیگ، قومی سلامتی  اور مشترکہ مفادات کے کوئی معنی نہیں ہیں یہاں تک کہ مسئلہ  فلسطین ایک اصلی مسئلہ ہے اسرائیل کا اس پر غاصبانہ قبضہ ہے لیکن یہ مسئلہ آج ایک عادی مسئلہ بن کر رہ گيا ہے اور یہ موضوع عرب لیک کے حانیہ اجلاس میں بھی مشہود تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس دور میں عربوں کی سب سے بدترین صورتحال یہ ہے کہ سعودی عرب کے اس سے قبل اسرائیل کے ساتھ خفیہ روابط تھے جو اب آشکار ہوگئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے جنرل کا اسرائیل کا دورہ نئے تعلقات کا مظہر نہیں ہے بلکہ اسرائیل اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات پہلے خفیہ سطح پر تھے جو اب آشکار ہوگئے ہیں۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ جب سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں تو رابطہ کرانے والے سعودی عرب سے بڑی مقدار میں فیس وصول کرتے ہیں کیونکہ یہ اقدام اسرائیل کے مفادات میں ہے ۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات آشکارا طور پرہموار کررہا ہے اور اس کے بعد فتوی بھی صادر کررہا ہے اور بعض لوگ سعودی عرب کے اندر اس کی توجیہ اور تشریح بھی کررہے ہیں ۔ لیکن ایک بات صاف ظاہر ہوگئی ہے کہ سعودی عرب عالم اسلام کو مزید دھوکہ نہیں دے سکتا اور مسلمانوں پر سعودی عرب کا نفاق پہلے سے کہیں زيادہ نمایاں ہوگیا ہے اور اب سبھی مسلمان جانتے ہیں کہ سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ میں کوئی فرق نہیں ، سعودی عرب اسلام کا لباس پہن کر مسلمانوں کی پشت میں خنجر گھونپ رہا ہے اور حرمین شریفین کو اپنے غلط اور نامشروع مقاصد کے لئے استعمال کررہا ہے۔۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ علماء اسلام، اسلامی مفکرین ، دانشوروں ، اسلام پسندوں اور مسئلہ فلسطین سے محبت رکھنے والوں کو سعودی عرب اور اسرائیل کے باہمی تعلقات برقرار کرنے کے اقدام کی مذمت کرنی چاہیے اور اب جبکہ سعودی عرب امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ  آشکارا طور پر متحد ہوگيا ہے تو حق و باطل کا راستہ بھی مشخص ہوگیا ہے ۔ سعودی عرب پہلے بھی اسلام کی آڑ میں  باطل پر تھا لیکن اب اس کا باطل چہرہ  تمام مسلمانوں کے سامنے نمایاں ہوگیا ہے سعودی عرب کے باطل پرست ہونے میں اب نہ کسی دلیل کی ضرورت ہے اور نہ کسی تحقیق کی ضرورت ہے مسلمانوں کے لئے حق و باطل کا راستہ واضح ہوگیا ہے لہذا اب مسلمانوں کو سعودی عرب کے گمراہ پروپیگنڈہ میں نہیں آنا چاہیے۔

News Code 1865853

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha