مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان حسن قشقاوی نے مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار سے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور ایران کے سات روزہ منصوبے کی تازہ ترین صورتِ حال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے دعوؤں اور تشہیر کے برخلاف، قطری ثالث نے اسی وقت، جب عراقچی نیویارک میں موجود تھے اور ان کے ایران روانہ ہونے سے بھی پہلے، امریکی مؤقف ہمیں پیش کر دیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ متعدد عقلی اور منطقی وجوہات اور امریکہ کے سابقہ طرزِ عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا ماننا ہے کہ ساتوں شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے، کیونکہ امریکہ عموماً مذاکرات کی میز الٹ دیتا ہے، سفارت کاری سے منہ موڑ لیتا ہے اور قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی عقل مند شخص یہ قبول نہیں کر سکتا کہ ایران اور امریکہ کے صدور کی دستخط کردہ سات شرائط پوری ہونے سے پہلے کوئی اقدام کیا جائے۔ اگرچہ امریکی صدر بعد میں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے اور اس معاہدے کی نفی کر دی، لیکن ہمارے نزدیک ان ساتوں شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے۔
ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان نے واضح کیا کہ ایران کی ساتوں شرائط برقرار رکھنے کا فیصلہ منطقی ہونے کے ساتھ ساتھ نظام کا ایک قطعی فیصلہ بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران میں فیصلہ سازی کی مختلف سطحوں پر اس فیصلے کی خلاف ورزی یا اس میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ نظام کے اعلیٰ حکام کی جانب سے یہ فیصلہ ابلاغ کیا گیا ہے کہ ساتوں شرائط لازماً پوری ہونی چاہئیں اور اس کے بعد آبنائے ہرمز کو کھولا جائے گا۔
قشقاوی نے سات روزہ منصوبے اور اسلام آباد مفاہمت نامے کے فرق کے بارے میں کہا کہ موجودہ منصوبے اور اسلام آباد میں پیش کیے گئے منصوبے میں صرف یہ فرق ہے کہ وہاں پہلے 30 روزہ اور پھر 60 روزہ جنگ بندی کی بات کی گئی تھی، لیکن یہاں اس مدت کو مختصر کرکے سات دن تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، معاہدے کے مندرجات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی سات روزہ تجویز کے جواب میں فریقِ مخالف کا مؤقف یہ ہے کہ ایران پہلے آبنائے ہرمز کھولے اور اس کے بعد ساتوں شرائط بتدریج پوری کی جائیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے نمائندے نے امریکہ کی جانب سے جوہری معاملہ اٹھائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دوسری طرف وہ جوہری مسئلے کی بات بھی کر رہے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک جانب وہ خود دعویٰ کرتے ہیں کہ سب کچھ تباہ ہو چکا ہے، انہوں نے ہماری جوہری صنعت پر بمباری کرکے کچھ باقی نہیں چھوڑا اور دوسری جانب کہتے ہیں کہ آئیے جوہری معاملے پر مذاکرات کرتے ہیں!
انہوں نے مزید کہا کہ چند روز قبل ٹرمپ نے اپنی انتخابی تقریر میں ایک بار پھر یہی بات دہرائی کہ ہم نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ اس لیے جوہری معاملے پر امریکہ کا مطالبہ ہمارے لیے بنیادی طور پر مبہم ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ اب زیرِ بحث لانے کے لیے کیا باقی ہے، کیونکہ یہ معاملہ غیر واضح ہے اور اس کا تعلق زیادہ تر نفسیاتی پہلو سے ہے۔
قشقاوی نے مذاکراتی عمل کے حوالے سے مغربی ذرائعِ ابلاغ کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ بہت سے مغربی ذرائعِ ابلاغ نے بھی کہا ہے، اب گیند امریکہ کی زمین پر ہے۔ اسے ایک بار پھر واضح کرنا ہوگا کہ آیا وہ اپنے کیے ہوئے وعدے سے پھرنا چاہتا ہے یا اس کی پابندی کرے گا۔
ایرانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان نے امریکہ کی داخلی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کے اندر حالات سازگار نہیں ہیں۔ البتہ ہمارے عوام پر اقتصادی دباؤ بھی ناقابلِ انکار ہے، لیکن بیرونی دباؤ اور پابندیوں کا مقابلہ کرنے میں ہماری برداشت کی صلاحیت اور تجربہ یقیناً امریکی فریق سے کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اس وقت وسط مدتی انتخابات کے باعث وقت کی پابندی کا بھی سامنا ہے۔ امریکہ پر دباؤ، ایران پر دباؤ سے کہیں زیادہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ ٹرمپ اور اس کی ٹیم پر اس غیر دانشمندانہ جنگ کے باعث بہت زیادہ دباؤ ہے، جس کا انہوں نے آغاز کیا تھا۔
قشقاوی نے ریپبلکنز کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے درمیان اختلافات میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے۔ پانچ ایسی ریاستوں میں، جہاں ریپبلکنز عموماً زیادہ ووٹ حاصل کرتے ہیں، کم از کم انتخابی جائزوں کے مطابق ان کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہو گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کل تک بعض لوگ پیش گوئی کر رہے تھے کہ ریپبلکنز ممکنہ طور پر کانگریس کے ایوانوں میں سے ایک سے محروم ہو سکتے ہیں تو اب امریکی ماہرین کی زیادہ تر پیش گوئیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دونوں ایوانوں سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے رکن نے کہا کہ امریکہ کی سیاسی صورتِ حال سازگار نہیں ہے۔ اسی وجہ سے وہ ایران کے خلاف ذرائع ابلاغ اور تشہیری مہم اور اقتصادی دباؤ میں شدت لانے کی طرف مائل ہوئے ہیں۔ البتہ اقتصادی دباؤ اور اس نوعیت کے دیگر طریقے پہلے بھی آزمائے جا چکے ہیں۔ فطری طور پر ہم ان حالات کے زیادہ عادی ہیں، ہماری برداشت زیادہ ہے اور ہمارے عوام زیادہ باخبر ہیں۔
آپ کا تبصرہ