مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل اور اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار رافائل گروسی نے فلسطین کے مظلوم عوام کے خلاف غاصب صیہونی حکومت کے جاری جرائم اور دوسری جانب امریکہ اور اس حکومت کی جانب سے ایران کی سرزمین پر کیے گئے حملے اور ان واقعات کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی بے عملی کا ذکر کیے بغیر، روسی خبر رساں ادارے ’’ریا نووستی‘‘ کو ایک تشہیری انٹرویو میں اعتراف کیا کہ عالمی سطح پر یہ رائے عام ہے کہ اقوامِ متحدہ موجودہ بین الاقوامی بحرانوں سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے اور ان کے حل میں اس کی شمولیت کافی نہیں ہے۔
گروسی نے اعتراف کیا کہ یہ رائے بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے کہ اقوامِ متحدہ ان چیلنجز کے مقابلے میں مناسب کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی اور آج ہمیں جن متعدد مسائل کا سامنا ہے، ان سے نمٹنے میں اس ادارے، بالخصوص سیکرٹریٹ اور خود سیکرٹری جنرل کی جانب سے خاطر خواہ شرکت کا فقدان ہے۔
واضح رہے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے اب تک کم از کم ایران کی سرزمین، تہران کی پرامن جوہری تنصیبات پر امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کے حملے کی مذمت اور اس بین الاقوامی ادارے کی غیر جانب داری کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں انجام نہیں دی ہیں؛ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہماری سرگرمیوں کا دائرہ زیادہ محدود ہے: عدم پھیلاؤ، جوہری ہتھیاروں سے متعلق مسائل، جوہری مواد اور توانائی، لیکن اس تجربے کو یہاں نیویارک میں بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے، جہاں ذمہ داریوں کا دائرہ وسیع اور مسائل کہیں زیادہ ہیں!
گروسی کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کا موجودہ عمل بین الاقوامی کشیدگی کی بلند سطح، جاری جنگوں اور موجودہ واقعات پر مؤثر ردعمل دینے کی اقوامِ متحدہ کی صلاحیت کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کے باعث گزشتہ ادوار سے مختلف ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے امیدوار کے انتخاب اور اس فرد کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے ابتدائی ووٹنگ کر رہے ہیں؛ وہ جنرل اسمبلی جو اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق سیکرٹری جنرل کی باضابطہ تقرری کی ذمہ دار ہے۔ سلامتی کونسل کی ووٹنگ خفیہ طور پر ہوتی ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اگلے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے امیدواروں میں گیانا سے کیرولین روڈریگز-برکٹ، کوسٹا ریکا سے ربیکا گرینسپن، ارجنٹائن سے گروسی، ایکواڈور سے ماریا فرنانڈا اسپینوسا، سینیگال سے مکی سال، یوگنڈا سے اولارا اوتونو اور ایوونادور شامل ہیں۔
آپ کا تبصرہ