مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل صفوی نے کہا کہ ایرانی عوام ملک کی طاقت اور قومی سلامتی کا بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے میزائل، ڈرون اور فضائی دفاع کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اپنی سرحدوں کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے خطے میں غیر ملکی افواج کی نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھی ہوئی ہے اور خلیج فارس سمیت بحر ہند میں موجود امریکی بحری بیڑے اور جنگی جہازوں کی نقل و حرکت کو جدید ریڈار نظام کے ذریعے مسلسل مانیٹر کیا جاتا ہے۔
میجر جنرل صفوی نے کہا کہ ایران میزائل، فضائی دفاع اور ملکی دفاعی نظام کے شعبوں میں اس سطح تک پہنچ چکا ہے کہ اگر کوئی دشمن ایرانی سرزمین پر اترنے کی کوشش کرے تو اسے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے ایران کی دفاعی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کم از کم ایک کروڑ تربیت یافتہ بسیجی اہلکار موجود ہیں جو مختلف علاقوں میں غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی کے تحت ملک کے دفاع میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
صفوی نے کہا کہ ایران ضرورت پڑنے پر مؤثر دفاع اور جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے بقول جنگ صرف ہتھیاروں کا نہیں بلکہ ارادوں کا بھی مقابلہ ہوتی ہے اور ایران اپنے قومی مفادات، سلامتی اور شناخت کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی شرائط
ایرانی اعلیٰ فوجی مشیر نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ فوجی دباؤ کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ کو کھولنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے ایران اور عمان اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر رابطہ موجود ہے۔
جنرل صفوی نے واضح کیا کہ ہم آبنائے ہرمز اس وقت کھولیں گے جب سمندری محاصرہ ختم کیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز کا کھلنا ایران کی شرائط تسلیم کیے جانے سے مشروط ہے۔ اگر ایران کی شرائط تسلیم کی جاتی ہیں تو آبنائے ہرمز کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے آٹھ سالہ جنگ کے دوران بھی آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا تھا۔
جنرل صفوی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے صورتحال اب ماضی پر واپس نہیں جائے گی۔ یمن اور انصاراللہ کی کارروائیوں نے بھی خطے میں نئی صورتحال پیدا کی ہے اور امریکہ کو آبنائے ہرمز کے علاوہ باب المندب اور بحیرہ احمر کے حوالے سے بھی نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
خلیج فارس میں نئی علاقائی سلامتی کا مطالبہ
میجر جنرل صفوی نے کہا کہ امریکہ کا ایک اہم مقصد ایران اور خلیج فارس کے تیل کے ذخائر پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں ایران تیل کی فروخت اور خلیج فارس سے متعلق معاملات پر اپنا اثر برقرار رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیج فارس کے ساتھ ساتھ باب المندب کی صورتحال بھی علاقائی اور عالمی معیشت پر اثرانداز ہو رہی ہے اور اس کے اثرات تیل اور گیس کی قیمتوں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
ایرانی اعلیٰ فوجی مشیر نے کہا کہ ایران کی بنیادی حکمتِ عملی یہ ہے کہ ایرانی عوام کو مستقل طور پر بیرونی خطرات سے محفوظ بنایا جائے اور خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ مل کر ایسا پائیدار امن اور ترقی کا نظام قائم کیا جائے جس میں امریکہ کی فوجی موجودگی نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ امریکہ دوبارہ پہلے کی طرح خلیج فارس میں اپنا اثر قائم کر سکے گا۔ ایران اور عرب ممالک مشترکہ مفادات کی بنیاد پر باہمی سلامتی کا نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔
جنرل صفوی نے کہا کہ ایران کا عرب ممالک کی سرزمین پر قبضے یا ان کی حکومتوں کو گرانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے پڑوسی ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران کی نیت اور پالیسی کو سمجھیں اور بیرونی مداخلت کے بجائے خطے کے ممالک خود اپنی سلامتی کے انتظامات طے کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایران عرب ممالک کے ساتھ مل کر خلیج فارس کے لیے ایک نیا علاقائی سلامتی کا نظام قائم کر سکتا ہے، جس کے ذریعے خطے کے ممالک کو اسرائیلی حملوں سمیت بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔
آپ کا تبصرہ