مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ انقلاب نے اپنے پیغام میں آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی کی علمی، تحقیقی اور تدریسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم عالمِ دین نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علم کے حصول، تدریس اور تحقیق میں صرف کیا۔
بسم الله الرحمن الرحیم
جلیل القدر استاد، فقیہ عالی مقام حضرت آیت اللہ العظمیٰ شبیری رضوان اللہ تعالی علیہ کے انتقال کی افسوسناک خبر موصول ہوئی۔ اس عظیم عالم نے اپنی تمام باعزت زندگی، بچپن کے ابتدائی کچھ برسوں کے علاوہ، حصولِ علم، تعلیم دینے اور تحقیق کی راہ میں گزاری اور مرحوم ہمیشہ ہم عمر اور ہم درس افراد اور اساتذہ کی نظر میں ایک محقق اور گہری نظر رکھنے والی شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ شرعی احکام کے استنباط سے متعلق مختلف علوم و فنون پر ان کی مہارت، باریکیوں اور دقیق نکات کی رعایت کے ہمراہ ہوتی تھی۔ اس بزرگوار کے دروس کی نشستیں، بعض اوقات حاضرین کی تعداد کم ہونے کے باوجود، دقت نظر اور عمیق علم کی نشستوں کے طور پر جانی جاتی تھیں اور حقیقت میں ایسا ہی تھا۔
الحمدللہ گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ کے عرصے کے دوران بہت سے لوگوں کو یہ توفیق حاصل ہوئی کہ اپنی استعداد کے مطابق ان کے گراں قدر وجود سے استفادہ کریں اور اپنے علمی حلقوں اور تدریس کے لیے زاد راہ حاصل کریں۔ *ان کا وجود، فائدہ پہنچانے اور فائدہ حاصل کرنے کا وجود تھا، یہاں تک کہ جب وہ درس کے بعد پیدل چلتے ہوئے اپنے گھر کی طرف جاتے تھے تو بھی استفادہ پہنچاتے تھے۔ ان کی مسلمہ علمی حیثیت کے علاوہ طلباء اور علماء کے ساتھ ان کا متواضعانہ اور پدرانہ حسن سلوک بھی ایک نمایاں اور سبق آموز امر تھا۔
بیشک اس ممتاز شخصیت کا فقدان عصرِ حاضر میں صف اول کے شیعہ محققین کی صف میں ایک خلا پیدا کر گیا ہے کہ جس کے ازالے کے لیے شاید ایک طویل عرصہ درکار ہو۔ میں اس مصیبت پر ہمارے آقا و مولا امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف، حوزہ ہائے علمیہ اور بالخصوص ان کے شاگردوں اور عقیدت مندوں اور خاص طور پر اس محترم گھرانے کی خدمت میں، جو علماء اور فضلا کی پرورش کرنے والا ہے، تعزیت پیش کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس عظیم ہستی کے درجات کی بلندی کی دعا کرتا ہوں۔
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
۲۲ ستمبر ۲۰۲۶
آپ کا تبصرہ