مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ایرانی قوم مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کی پیروی کرتے ہوئے ظالم کے خلاف ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دے گی۔ فلسطینی قوم نے غاصب صہیونیوں کے مقابلے میں استقامت کی مثال ایجاد کی ہے۔ آزادی کی راہ میں ان کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔ شہید قاسم سلیمانی اور دیگر شہداء کی قربانیوں نے بیت المقدس کی آزادی کی کوششوں کو نئی روح بخشی ہے۔
صدر رئیسی نے کہا کہ امام خمینی نے یوم القدس کا اعلان کرکے عالمی سطح پر فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یوم القدس عالمی برادری کے سامنے صہیونیوں اور امریکہ کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنے کا بہترین موقع ہے۔ گذشتہ سالوں کے دوران بعض عناصر غاصب اسرائیلیوں کے ساتھ مذاکرات کے بہانے مسئلہ فلسطین کو فراموش کرنا چاہتے تھے لیکن مقاومتی بلاک نے اس مسئلے کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
آیت اللہ رئیسی نے مقاومت کی حمایت کا دوبارہ عزم دہراتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیشہ مقاومت کے ساتھ ہے۔ آج دشمن صہیونی کمزور ہورہے ہیں اور طاقت کا توازن مقاومت کے حق میں بدل رہا ہے۔ مشرق وسطی سمیت دنیا کے ہر گوشے میں امریکہ ہزیمت اور ناکامی کا سامنا کررہا ہے۔ غاصب صہیونی حکومت داخلی بحران سے دوچار ہونے کی وجہ سے سقوط کی طرف بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے صہیونیوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کو فلسطین کے ساتھ خیانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے عوام چاہتے ہیں کہ غاصب حکومت سے دوری اختیار کی جائے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے مشرق وسطی کی سیکورٹی خطرے میں پڑ جائے گی۔
آپ کا تبصرہ