خطے کے ملکوں کا دوطرفہ تعاون ہی امریکی پابندیوں کا فیصلہ کن جواب ہے، آیت اللہ رئیسی

صدر رئیسی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اصولی پالیسی جنگ کی مخالفت کرنا ہے، کہا کہ جنگ کے دائرہ کار میں توسیع اور شدت تمام ممالک کے لیے باعث تشویش ہے۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے بدھ کی سہ پہر تہران میں روسی فیڈریشن کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نکولائی پاتروشیف کے ساتھ ملاقات کی۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور روس کی خواہش ہے کہ مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک تعلقات کی سطح کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے تہران ماسکو تعلقات کو مضبوطی سے بڑھتے ہوئے تعلقات کہا اور ان تعلقات کے روشن مستقبل کی پیشین گوئی کی۔

صدر رئیسی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اصولی پالیسی جنگ کی مخالفت کرنا ہے، کہا کہ جنگ کے دائرہ کار میں توسیع اور شدت تمام ممالک کے لیے باعث تشویش ہے۔ روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری پیٹروشیف نے ایران روس دوطرفہ تعاون کی صورتحال پر ایک رپورٹ پیش کی اور اس بات پر زور دیا کہ ہم سیاسی، تجارتی، توانائی، زرعی اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے بہت فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔

روسی عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران اور روس کا مشترکہ اقتصادی کمیشن بھی دونوں ممالک کے صدور کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر عمل پیرا ہے۔ پیٹتروشیف نے علاقائی اداروں اور تنظیموں کے دائرہ کار میں ایران اور روس کے تعلقات کے فروغ کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کثیر قطبی دنیا کا قیام دنیا کے تمام ممالک کے مفادات کے مطابق ہے۔

خیال رہے کہ نکولائی پیٹتروشیف ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل (SNSC) کے سیکریٹری ریئر ایڈمرل علی شمخانی کی سرکاری دعوت پر منگل کو تہران پہنچے ہیں۔

دونوں اعلیٰ سیکورٹی حکام نے بدھ کی صبح دو طرفہ ملاقات کی جس کے دوران انہوں نے کئی علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ پیٹتروشیف اس دورے میں دیگر اعلیٰ ایرانی سیاسی اور اقتصادی حکام سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ بین الاقوامی سطح پر دوطرفہ تعلقات اور تعاون کی ترقی اور توسیع پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

روس کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری اپنے ایران کے دورے میں اقتصادی وفد کے ہمراہ ہیں۔

News Code 1913073

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha