ایرانی وزیر خارجہ کا ایران کو امریکی پیغام پر رد عمل/ امریکیوں کی باتیں اور رویے متضاد ہیں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکیوں کی باتیں اور رویے متضاد ہیں، تین دن پہلے ہمیں ان کی طرف سے ایک پیغام موصول ہوا ہے، ہم نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی جوہری ایجنسی کے الزامات کو برطرف کیا جائے۔

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان کے دورہ آرمینیا کے دوران آرمینیا میں موجود مہر نیوز کے خصوصی نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق امیر عبد اللہیان نے اپنے دورہ ایریوان کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہم نے آرمینیا کے ساتھ تجارتی تبادلے کے حجم کو 700 ملین ڈالر سے بڑھا کر 1 بلین ڈالر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکہ اور مغربی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکیوں کی باتیں اور طرز عمل متضاد ہے۔ تین دن پہلے ہمیں ان کی طرف سے ایک پیغام موصول ہوا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے واضح طور پر کہا ہے کہ جوہری میدان میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی جانب سے ایران کے خلاف لگائے گئے الزامات کا ازالہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئی اے ای اے کے تحفظات کے معاملے سے متعلق الزامات کو ختم ہونا چاہیے کیونکہ یہ تکنیکی مسائل نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے جانب سے ایجنسی پر مسلط کیے گئے سیاسی الزامات ہیں۔امیر عبد اللہیان نے مزید کہا کہ ایسے وقت میں کہ جب امریکی ایران کے ساتھ اپنے پیغامات کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، مذاکرات کو اپنے حق میں موڑنے کے لیے ایران کے حالیہ فسادات کو ہوا دے کر ملک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کہا کہ ہم بات چیت میں امریکہ کو کوئی رعایت نہیں دیں گے۔ ہم ایک معقول فریم ورک کے اندر ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لیے آگے بڑھیں گے جو ایران کی ریڈ لائنز کا احترام کرتا ہو۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ تاہم ہم مذاکرات کی میز کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں تک کہ حالیہ دنوں میں بھی امریکہ کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات کے متعلق ہم اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ معاہدہ نہ صرف ان کی ترجیح ہے بلکہ انہیں اس کی جلدی بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا اعلان کردہ موقف مقامی اور اندرونی استعمال کے لیے ہے اور اسی طرح اس کے ذریعے ایران کے اندر شرپسند عناصر اور بلوائیوں کو بھڑکانے اور اشتعال دلانے کا عمل جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے ایران کی داخلی صورت حال پر مغرب کے رد عمل کے بارے میں کہا کہ دو دن قبل ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل پر واضح کیا ہے مغرب کو موجودہ رویے سے دوری اختیار کرنا ہوگی۔ ایران میں جو کچھ ہو اس کا ایک حصہ عوام کے پر امن مطالبات تھے کہ جن کا ہم احترام کرتے ہیں اور عوام کے پر امن مطالبات کا ملک آئین کے مطابق جواب دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ان پر امن مطالبات کے بیچ میں بعض بلوائی اور مسلح افراد بھی گھس بیھٹے تھے۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کی رپورٹس کے مطابق ان افراد کے پاس ملک کے اداروں کے پاس موجود ہتھیاروں سے مختلف ہھتیار تھے اور انہی ہتھیاروں کے ساتھ عوام کے درمیان گھسے اور ہمارےکچھ لوگوں کو جاں بحق کیا۔

News Code 1912769

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha