غاصب اسرائیل فلسطینی مزاحمت کے سامنے بے بس، جنگ بندی پر مجبور

فلسطینی مزاحمتی تحریک کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی تصدیق کی گئی ہے۔ فلسطینی حکام نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں کل مقامی وقت کے مطابق رات 11:30 بجے سے جنگ بندی شروع ہوگی ہے۔ 

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی مزاحمتی تحریک کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی تصدیق کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، غزہ میں کل مقامی وقت کے مطابق رات 11:30 بجے سے جنگ بندی شروع ہوگی ہے۔ 

واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ایک کمسن بچی سمیت 29 فلسطینی شہری شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ 

بتایا جاتا ہے کہ جنگ بندی کے لیے مصر کی جانب سے ثالثی کی کوششیں جاری تھیں۔ 

 مصر نے غزہ میں کل رات جنگ بندی کی تجویز دی تھی جس پر اسرائیل نے اتفاق کرلیا تھا جبکہ فلسطین کے جواب کا انتظار تھا۔

فلسطینی مزاحمتی تحریک "جہاد اسلامی" کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ نے اس موقع پر کہاکہ ہم قطر اور ایران کے وزرائے خارجہ اور لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر سمیت ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہم سے رابطہ کیا اور حمایت کی۔

انہوں نے مزید کہاکہ 58 بستیاں اسی لمحے القدس بریگیڈز کے میزائلوں کی حدود میں تھیں۔ قابض ہم پر کوئی شرط نہیں لگا سکتا۔ قابض پر مزاحمت کا دباؤ تھا، اور ہم نے اس پر قیدی خلیل العودہ اور شیخ بسام السعدی کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

*بعض ذرائع نے غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تحریک اور غاصب صیہونی حکومت کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کی شقوں کا اعلان کیا ہے جو درجہ ذیل ہے:

1 اسلامی جہاد کے اسیر رہنما بسام السعدی اور خلیل عودہ کی رہائی

2 غزہ پٹی کے تمام کراسنگ کو دوبارہ کھولنا

3 پیر کی صبح سے غزہ کو ایندھن کی سپلائی کی بحالی

4 غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی

_____________________________

ہمیں سوشل میڈیا پر جوائن کریں

 WhatsApp group

Facebook

instagram

twitter

News Code 1911906

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha