اقوام متحدہ کے سر پر موت کی مٹی ڈال دی گئی ہے

بین الاقوامی امور میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے اعلی مشیر اور ایران کے سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے یمن میں جاری ظلم و ستم کے بارے میں اقوام متحدہ کی غفلت اور عدم ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی یمن میں جاری ہولناک مظالم اور جرائم پر کوئی توجہ نہیں گویا اقوام متحدہ کے سر پر موت کی مٹی ڈال دی گئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ریڈیو اور ٹی وی کے آٹھویں عام اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں بین الاقوامی امور میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے اعلی مشیر اور ایران کے سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے یمن میں جاری ظلم و ستم کے بارے میں اقوام متحدہ کی غفلت اور عدم ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی یمن میں جاری  ہولناک مظالم اور جرائم پر کوئی توجہ نہیں گویا اقوام متحدہ کے سر پر موت کی مٹی ڈال دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ دہشت گرد سعودی ڈالروں کے ذریعہ بنائے جاتے ہیں آج شام میں جاری جنگ میں دہشت گردوں کی پشتپناہی امریکہ اور سعودی عرب کررہے ہیں جو سنی شیعہ اور عیسائیوں کا قتل عام کررہے ہیں۔

ولایتی نے کہا کہ دہشت گردوں میں کوئی فرق نہیں ہے دہشت گرد دہشت گرد ہیں جن کی سرپرستی امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے ہاتھ میں ہیں یہ ممالک بعض دوسرے ممالک میں دہشت گردوں کی حمایت اور بعض دیگرممالک میں بظاہر دہشت گردوں کی مخالفت کرتےہیں اور یہ ان کی منافقانہ اور معاندانہ پالیسیوں کا حصہ ہے ۔

ولایتی نے کہا کہ فلسطین کے مسئلہ کو حل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ اور سعودی عرب ہیں  امریکہ سعودی عرب کے ذریعہ عالم اسلام میں اختلاف اور انتشار پھیلا رہا ہے۔ سعودی عرب استکباری اور سامراجی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے کام کررہا ہے۔

ڈاکٹر ولایتی نے کہا سعودی عرب چار مہینے سے یمن میں بھیانک اور ہولناک جرائم کا ارتکاب کررہا ہے اور کوئی بھی سعودی عرب کو کچھ نہیں کہتا اقوام متحدہ کے سر پر گویا موت کی مٹی ڈال دی گئی ہے اور یمن کے بارے میں اقوام متحدہ بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ یمن کے مظلوم عوام کا دفاع کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ، اقوام متحدہ ظالم اور جابر طاقتوں کا آلہ کار ادارہ بن گیا ہے جس کی مظلوم اقوام پر کوئی توجہ نہیں ہے۔

News Code 1857427

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha