20 اکتوبر، 2026، 12:31 PM

علاقائی ممالک کے ساتھ کوئی بنیادی اختلاف نہیں، مسائل مذاکرات سے حل کرنے کرنا چاہتے ہیں، صدر پزشکیان

علاقائی ممالک کے ساتھ کوئی بنیادی اختلاف نہیں، مسائل مذاکرات سے حل کرنے کرنا چاہتے ہیں، صدر پزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایران کے علاقائی ممالک کے ساتھ کوئی بنیادی اختلافات نہیں ہیں اور تہران مکالمے، باہمی افہام و تفہیم اور علاقائی طریقہ کار کے ذریعے موجودہ مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے درمیان ملاقات کے دوران تہران اور ماسکو کے دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران پزشکیان نے کہا کہ ایران اور روس اپنی مشترکہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی طریقہ کار کے ذریعے امن، پائیدار سلامتی اور کثیرالجہتی عالمی نظام کے استحکام میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ایرانی صدر نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں اور رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتوں، ان پر عمل درآمد کے منصوبوں اور مشترکہ تعاون کے فروغ کے لیے مسلسل مشاورت جاری ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ماسکو کا آئندہ دورہ طے شدہ معاہدوں پر عملی پیش رفت اور متفقہ شعبوں میں ٹھوس نتائج کے حصول کی راہ ہموار کرے گا۔

انہوں نے حالیہ جنگ کے دوران روسی صدر، حکومت اور عوام کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے پیش نظر باہمی تعاون، سیاسی روابط اور سفارتی اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

صدر پزشکیان نے علاقائی ممالک کے ساتھ ایران کے تاریخی، ثقافتی اور نظریاتی روابط کا ذکر کرتے ہوئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ اور اسلامی ممالک کے درمیان تعمیری روابط کو وسعت دینے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے علاقائی ممالک کے ساتھ وسیع ثقافتی اور نظریاتی مشترکات ہیں اور تہران نے ہمیشہ باہمی رابطوں، اخوت اور تعاون کی بنیاد پر تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور علاقائی ممالک کے درمیان کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہے اور موجودہ مسائل و چیلنجز کو مذاکرات، افہام و تفہیم اور علاقائی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول، خطے میں اختلافات کی بنیادی وجہ امریکہ کی تقسیم پیدا کرنے والی مداخلتیں اور پالیسیاں ہیں۔

انہوں نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کے قیام سے نہ ماضی میں خطے کو کوئی فائدہ پہنچا ہے اور نہ مستقبل میں پہنچے گا، بلکہ اس سے کشیدگی، اختلافات اور عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔

News ID 1942233

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha