10 اکتوبر، 2026، 6:36 PM

ہندوستان؛ زمین پر قبضے کے خلاف مقدمہ درج نہ ہوا تو تحریک شروع کریں گے: مولانا کلب جواد نقوی

ہندوستان؛ زمین پر قبضے کے خلاف مقدمہ درج نہ ہوا تو تحریک شروع کریں گے: مولانا کلب جواد نقوی

شیعہ علماء کونسل ہندوستان کے سربراہ مولانا کلب جواد گزشتہ روز لکھنؤ میں زمینوں پر قبضے کے سلسلے میں جائزہ لینے کے لیے موقع پر پہنچے، پولیس کو میمورنڈم دے کر مجرموں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ہندوستان؛ نرہی میں واقع کربلا معتمدالدولہ آغا میر کی زمین پر ناجائز قبضے، غیر قانونی تعمیر کی کوشش اور ہرے درختوں کو کاٹنے کے خلاف، گزشتہ روز امام جمعہ مولانا کلب جواد نقوی نے موقع پر پہنچ کر کربلا کا جائزہ لیا اور احتجاج درج کروایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج تو ہم صرف جائزہ لینے اور پولیس کو میمورنڈم دینے کے لیے آئے ہیں لیکن اگر مجرموں کے خلاف مقدمہ درج نہ ہوا تو ہم احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔

مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو اس پر بذات خود کارروائی کرنی چاہیے کیونکہ ان کی ناک کے نیچے یہ جرم ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کربلا معتمد الدولہ آغامیر کی زمین پر جن درختوں کو کاٹا گیا اس میں افسران کی ملی بھگت ہے، کیونکہ پولیس چوکی کربلا کے دروازے پر واقع ہے اور محکمۂ جنگلات کا دفتر بھی نزدیک ہے، اس کے باوجود کربلا کی زمین سے درخت کاٹے گئے۔

مولانا سید کلب جواد نے بتایا کہ جب وہاں درخت کاٹے جارہے تھے توکچھ مقامی ہندو بھائیوں نے اس کی مخالفت بھی کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ مخالفت کرنے والوں سے کہا گیا کہ افسران نے انہیں درخت کاٹنے کی اجازت دی ہے۔ لہٰذا اس کی جانچ ہونی چاہیے تاکہ مجرموں کے خلاف سخت کارروائی ہوسکے۔ مولانا نے کہاکہ ہمیں بتایا جائے کہ کس کی اجازت سے ہرے بھرے درخت کاٹے گئے؟

انہوں نے کہا کہ کربلا کی زمین پر نیم اور پیپل کے درخت تھے جنہیں کاٹا گیا ہے، پیپل کو ہندوؤں میں مقدس تصور کیا جاتا ہے جس بناپر مقامی لوگوں نے مخالفت کی تھی مگر ان کی مخالفت کو نظر انداز کرکے پیڑ کاٹے گئے۔

مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ پیڑوں کی کٹائی سے معلوم ہورہاہے کہ مجرم کربلا کی زمین پر ناجائز قبضے اور غیر قانونی تعمیر کی کوشش کررہے ہیں، جس کی جانچ ہونی چاہیے۔

گزشتہ روز نماز جمعہ کے بعد جب مولانا کلب جواد نقوی نرہی میں واقع کربلا معتمد الدولہ کے جائزے کے لئے پہنچے تو گیٹ پر تالا لگا ہوا تھا۔

مولانا کے ساتھ نائب امام جمعہ مولانا رضا حیدر زیدی اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔ موقع پر پولیس بھی موجود تھی کیونکہ نرہی پولیس چوکی کربلا کے گیٹ پر ہی واقع ہے۔

مولانا نے پولیس کو اپنے مطالبات کا میمورنڈم بھی پیش کیا اور جلد از جلد مجرموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

مولانا نے کہاکہ اگر مجرموں کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہوئی تو ہم حضرت گنج سے احتجاج شروع کریں گے؛ کیونکہ کربلا معتمدالدولہ ہماری مقدس مذہبی عمارت ہے جہاں ہمارے ساتویں امام، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا روضہ واقع ہے۔

مولانا سید کلب جواد نے کہا کہ روضے کی زمین پر ’فری میسن‘ کا قبضہ ہے جہاں شیطان کی پرستش ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس کے خلاف بھی احتجاج کریں گے۔ مولانا نے وقف بورڈ کی غفلت پر بھی سوال اٹھائے اور کہاکہ کربلا عباس باغ کی طرح یہاں بھی وقف بورڈ تماشائی بنارہا اور کوئی مناسب قدم نہیں اٹھایا گیا۔

مولانا سید کلب جواد نے بتایا کہ کربلا معتمد الدولہ وقف بورڈ میں درج ہے جس کا وقف نمبر 1971 ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری وقف بورڈ پر عائد ہوتی ہے۔

News ID 1942016

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha