مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر فرانچسکا البانیز نے غزہ میں انسانی بحران کی شدت میں اضافے پر خبردار کیا ہے۔
البانیز نے غزہ جنگ کے تیسرے سال مکمل ہونے کے موقع پر کہا کہ اس پٹی میں ہونے والی تباہی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اسرائیل کی مسلسل بمباری نے عمارتوں کو ملبے اور گردوغبار میں تبدیل کردیا ہے، جبکہ فلسطینیوں کے پاس محفوظ پناہ گاہیں بھی موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق، جنگ کے دوران غزہ پر گرائے گئے بموں کی مجموعی تباہ کن طاقت چھ ایٹم بموں کے برابر ہے۔ رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی کے باوجود حملے جاری ہیں۔
غزہ کے سرکاری اطلاعاتی دفتر کے اعدادوشمار کے مطابق، جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے غزہ پر تقریباً 2 لاکھ 23 ہزار ٹن بم گرائے، جن کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید، تقریباً ایک لاکھ 57 ہزار زخمی اور ہزاروں لاپتا ہوچکے ہیں۔
البانیز نے کہا کہ غزہ کے بارے میں کئی ماہ اور سال پہلے دی گئی ان کی تنبیہات اب حقیقت بن چکی ہیں اور فلسطینی روزانہ ان کے تباہ کن نتائج بھگت رہے ہیں۔ محاصرے اور بنیادی سہولتوں کی تباہی کے باعث صورت حال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ بیماریوں اور غذائی قلت نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، جبکہ طبی نظام تباہی کے دہانے پر ہے اور بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے انسانی امداد بھی ناکافی ہے۔ اس بحران کے خاتمے کے لیے کوئی واضح سیاسی راستہ بھی دکھائی نہیں دیتا۔
فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ کے شمالی اور جنوبی علاقوں کے وسیع حصوں سے فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے۔ رفح شہر تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے، جبکہ تقریباً 18 لاکھ فلسطینی غزہ کے مجموعی رقبے کے 30 فیصد سے بھی کم حصے میں محصور ہیں۔
البانیز نے اسرائیلی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر بین الاقوامی حمایت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے دباؤ کے باعث سینیگال اور کولمبیا سمیت بعض ممالک ’’گروپ آف دی ہیگ‘‘ سے الگ ہوگئے۔ یہ گروپ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے خلاف اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی امریکی حکومت کا مقابلہ کرنا زیادہ مشکل ہوگیا ہے جو انتقام کی منطق پر عمل کرتی ہے، تاہم غزہ پر حملوں کی مذمت کے لیے دنیا بھر میں عوامی احتجاج اور تحریکیں جاری ہیں۔
البانیز اس سے قبل بھی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے خطرے سے خبردار کرچکی ہیں۔ ان کے مطابق، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی خلاف ورزیوں سے متعلق ان کی رپورٹوں اور مؤقف کے باعث انہیں اقوام متحدہ کے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
آپ کا تبصرہ