سعودی عرب کا دہشت گردی کے الزام میں 8 بچوں کو پھانسی دینے کا اعلان

یورپی انسانی حقوق کی تنظیم برائے سعودی عرب نے سعودی حکومت کی طرف سے سزائے موت پانے والے نوعمر لڑکے "احمد آل ادغام" کے الزام کے بارے میں بتایاکہ احمد آل ادغام پر سیکورٹی فورسز کو مطلوب افراد میں سے ایک کو کھانا فراہم کرنے کا الزام ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے العالم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ "احمد آل ادغام" ان سعودی نوعمر لڑکوں میں سے ایک ہے جنہیں سعودی عرب نے سزائے موت سنائی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یورپی انسانی حقوق کی تنظیم برائے سعودی عرب نے سعودی حکومت کی طرف سے سزائے موت پانے والے نو عمر لڑکے "احمد آل ادغام" کے الزام کے بارے میں بتایاکہ احمد آل ادغام پر سیکورٹی فورسز کو مطلوب افراد میں سے ایک کے لیے ایک ٹائم کا کھانا فراہم کرنے کا الزام ہے۔

اس تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ سعودی فوجداری عدالت نے 6 نو عمر بچوں کو سزائے موت سنائی ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجداری عدالت نے یوسف المناسف، علی المبیوق، محمد اللباد، محمد الفرج اور احمد آل ادغام نامی بچے ان کم سن بچوں (قانونی عمر سے کم) میں سے ہیں جن کو موت کی سزا سنائی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب میں قانونی عمر سے کم 8 نو عمر لڑکے پھانسی کے منتظر ہیں، جو سعودی حکومت کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ 18 سال سے کم عمر افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔

یورپی انسانی حقوق برائے سعودی والی انسانی حقوق کی تنظیم نے ایک بیان میں سعودی عرب میں اظہار رائے کی آزادی کے 15 قیدیوں کو سزائے موت دینے کا انکشاف کیا ہے جس کے بعد اس ملک میں سزائے موت کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد 53 ہو گئی ہے۔

مذکورہ بین الاقوامی ادارے نے تمام علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کہا ہے کہ وہ سعودی عرب میں سزائے موت پانے والوں کی مدد کریں اور ان غیر منصفانہ سزاؤں پر عمل درآمد کو رکوائیں۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اس سے قبل سعودی عرب میں انسانی حقوق کی ابتر حالت کے بارے میں خبردار کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ محمد بن سلمان آزادی کے نام پر بعض نمائشی کاموں کے ذریعے اس ملک میں انسانی حقوق کی ابتر حالت سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

News Code 1913032

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha